بامقصد تخلیق
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا بلاشبہ سب سے بڑی صداقت ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کے لیے بنی ہے۔ اس لیے یہاں ہمیشہ یہ امکان باقی رہے گا کہ آدمی صحیح بات کو غلط روپ میں دیکھنے لگے۔ برٹرینڈ رسل نے لکھا ہے کہ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک مذہب کا دور تھا۔ اس زمانہ میں انسان کوئی ترقی نہ کر سکا۔ انسان کی تمام ترقیاں حالیہ چند صدیوں میں ہوئی ہیں جب کہ مذہب کا غلبہ ختم ہو گیا اور سائنس کا دور دنیا میں شروع ہوا۔ برٹرینڈ رسل کی یہ بات ایک ترمیم کے ساتھ صحیح ہے۔ قدیم زمانہ میں جو غلبہ تھا وہ حقیقی مذہب کا غلبہ نہیں تھا۔ بلکہ مشترکانہ مذہب (بالفاظ دیگر شرک) کا غلبہ تھا۔ یہی شرک ہے جو قدیم زمانہ میں تمدنی ترقیوں میں رکاوٹ بنا رہا نہ کہ حقیقی معنوں میں مذہب۔ حقیقی مذہب موحدانہ مذہب ہے، جب کہ قدیم تاریخ میں مشترکانہ مذہب ہمیشہ غالب رہا ہے۔ تمدنی ترقیاں فطرت کی تسخیر کا نتیجہ ہیں۔ قدیم زمانہ میں شرک فطرت کی چیزوں کو معبود کا مقام دیے ہوئے تھا۔ ان چیزوں کو آدمی پرستش کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ وہ ان کو تحقیق اور تسخیر کی نظر سے کیوں کر دیکھتا۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو انقلاب آیا اس نے تاریخ میں پہلی بار سچے مذہب (توحید) کو غلبہ کا مقام عطا کیا۔ توحید کے غلبہ کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کی چیزیں جو اس سے پہلے پوجنے کی چیز بنی ہوئی تھیں وہ اب تسخیر کی چیز بن گئیں۔ (وسخر لكم ما في السموات والارض) پہلے اگر یہ نظریہ تھا کہ ہم چیزوں کے لیے ہیں تو اب یہ نظریہ ہو گیا کہ چیزیں ہمارے لیے ہیں نہ کہ ہم چیزوں کے لیے۔ برٹرینڈ رسل نے جس انقلاب کو سائنس کی طرف منسوب کیا ہے، وہ انقلاب حقیقتہً سچے مذہب کا لایا ہوا ہے۔ اس کا بیج ساتویں صدی عیسوی میں اسلام (دین توحید) کے ذریعہ رکھا گیا نہ کہ سولھویں صدی میں یورپ کے نشأۃ ثانیہ کی صورت میں۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ تو خود اسلامی انقلاب سے متاثر ہو کر ظہور میں آئی۔ برٹرینڈ رسل جیسے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ اسلام اور دوسرے مذہبوں کا مطالعہ ایک ہی مشترک عنوان مذہب (ریلیجن) کے تحت کرتے ہیں۔ اگر وہ اس موضوع کا مطالعہ دو الگ الگ عنوانوں کے تحت کریں تو اس معاملہ کو سمجھنے میں انھیں دشواری پیش نہ آئے۔ محرف مذہب اور غیر محرف مذہب میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ دونوں کا مطالعہ ایک عنوان کے تحت نہیں جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader