Urdu book · عظمتِ اسلام

آسمانی انتظام

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین سے خلا کا مشاہدہ کرنے میں فضا کی کثافت حائل رہتی ہے ۔ اس لیے مصنوعی سٹلائٹ کے ساتھ دور بینیں لگائی جاتی ہیں تاکہ وہ زمینی فضا سے اوپر جا کر خلا کا فوٹو لے سکیں ۔ ۱۸ نومبر ۱۹۸۹ کو امریکہ کے ادارہ ناسا (NASA) نے ایک خصوصی سٹلائٹ اوپر بھیجا۔ اس کا نام (Cosmic Background Explorer) تھا ۔ اس کی لاگت ۱۶۰ ملین ڈالر تھی ۔ یہ ۵۶۰ میل اوپر جا کر زمین کے گرد گھومتا رہا۔ اس سٹلائٹ نے بالائی خلا کی جو تصویریں بھیجی ہیں ، ان سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات کے بیرونی حصہ میں لہر دار سطح (ripples) موجود ہیں۔ یہ لہریں زمین سے ۱۵ بلین سال نور کی دوری پر واقع ہیں ۔ سائنس دانوں کے تجزیہ کے مطابق ، وہ بگ بینگ کے واقعہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ قطعی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ بگ بینگ جیسا معاملہ کائنات کے آغاز میں پیش آیا۔ یہ لہریں ثابت کرتی ہیں کہ کائنات خود سے نہیں بنی بلکہ ایک خالق کے تخلیقی عمل سے ظہور میں آئی ۔ چنانچہ کیلی فورنیا یونیورسٹی میں فرکس کے پروفیسر جویل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا کہ یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہے : The ripples are no less than the handwriting of god. بگ بینگ کے نظریہ کو سائنسی طور پر مان لینے کا مطلب یہ ہے کہ خالص علمی سطح پر یہ ثابت ہو گیا کہ کائنات کے ابتدائی مادہ میں دھماکہ سے کائنات کا آغاز ہوا۔ بگ بینگ نے مزید یہ ثابت کیا ہے کہ یہ دھماکہ خود کائنات اپنے قوانین کے تحت پیدا نہیں کر سکتی تھی ۔ یہ دھماکہ یقینی طور پر کسی خارجی طاقت نے کیا۔ قرآن کے لفظوں میں ایک فاطر تھا جس نے کائنات کو پھاڑا۔ کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر جارج اسموٹ (George Smoot) نے کہا کہ اگر آپ مذہبی آدمی ہیں تو یہ خدا کو دیکھنے کی مانند ہے : If you’re religious, it’s like looking to god. قرآن میں خالق کے وجود پر یہ دلیل دی گئی تھی کہ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین باہم جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا (الانبیاء ۳۰) اس دلیل کو آج خود علم انسانی کی تصدیق حاصل ہو گئی ہے۔ کیونکہ کائنات کا ابتدائی مادہ (پرائم) فزیکل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page