آسمانی انتظام
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
قوانین کے تحت غیر معمولی شدت کے ساتھ اندرونی سمت میں کھینچا ہوا تھا۔ معلوم طبیعی اصول کے تحت اس کا بیرونی طرف سفر کرنا بالکل ناممکن تھا۔ لیکن بگ بینگ کا نظریہ ثابت کرتا ہے کہ ایک وقت خاص میں اس کے اندر دھماکہ ہوا اور ابتدائی مادہ کے اجزاء نا قابل قیاس تیزی کے ساتھ بیرونی سمت میں پھیلنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں موجودہ پھیلی ہوئی کائنات وجود میں آئی۔ یہ دھماکہ جو کائناتی مادہ کو خلاف قاعدہ طور پر بیرونی سمت میں چلا دے، وہ کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ یہ واقعہ یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ یہاں ایک خدا ہے جس نے کائناتی مادہ میں مداخلت کر کے اس کو پھیلتی ہوئی کائنات کی صورت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعلان کیا تھا کہ سنریہم آیاتنا فی الآفاق و فی انفسہم حتیٰ یتبین لہم انہ الحق (ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، آفاق میں بھی اور خود لوگوں کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے) مذکورہ حقیقت بھی بلا شبہ انہیں حقیقتوں میں سے ایک ہے جو بعد کے زمانہ میں اس لیے ظاہر ہوئی کہ وہ قرآن کی صداقت کو لوگوں کے لیے خود ان کے معیار عقلی کے مطابق ثابت شدہ بنا دے۔ قرآن میں خدا کے وجود کے ثبوت میں یہ واقعہ پیش کیا گیا تھا کہ کائنات کا مادہ ابتدء سختی کے ساتھ ملا ہوا اور جڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک وقت خاص پر اس کے اندر پھاڑنے کا عمل ہوا۔ اس کے نتیجہ میں کائنات خلا کی وسعتوں میں پھیلنے لگی۔ سمٹی ہوئی کائنات توسیع پذیر کائنات بن گئی۔ پھاڑنے کا یہ عمل لازمی طور پر ایک خارجی طاقت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک ماورائے کائنات قوت ہے۔ اگر ایسی خارجی قوت موجود نہ ہوتی تو کائنات میں انفجار کا وہ عمل نہ ہوتا جس کو موجودہ زمانہ میں بگ بینگ نظریہ کی صورت میں دریافت کیا گیا ہے۔ فطر (پھاڑنے) کا جو عمل کائنات میں ہوا ہے، خود مادی کائنات میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اس کی توجیہہ کر سکے۔ اس کی ایک ہی ممکن توجیہہ ہے، اور وہ خاطر کا عقیدہ ہے۔ کتاب الہی کے الفاظ موجودہ زمانہ میں مزید قوت کے ساتھ سچ ثابت ہوئے ہیں اَفِی اللهِ شَكٌّ فاطر السموات والارض (ابراہیم (۱۰)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader