لامتناہی سفر
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
لامتناہی سفر ایک ہندوستانی سائنس داں ڈاکٹر جینت ناری کر (Jayant V. Narlikar) نے ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ سائنس کا علم ایک ایسا علم ہے جس میں اضافہ اور ترقی کا عمل برابر جاری رہتا ہے۔ اس کی خاص وجہ علمائے سائنس کا نئی نقطۂ نظر ہے۔ (scientific outlook) سائنسی نقطۂ نظر میں ساری توجہ کائنات پر ہوتی ہے نہ کہ کسی خاص سائنس داں پر۔ کسی سائنس داں نے کیا کہا ہے ، یہ سائنس میں ایک اضافی چیز ہے۔ اصل یہ ہے کہ مطالعہ کے ذریعہ کائنات کے بارہ میں کیا چیز دریافت ہوئی ہے ۔ سائنس میں اگر سائنس داں معیار ہوتے تو سائنس کا علم ایک مقام پر رک جاتا ۔ کیوں کہ سائنس داں ایک انسان ہے ، اور انسان کا علم محدود ہوتا ہے۔ مگر جب سائنس دانوں نے کائنات کو معیار بنایا جو اٹھاہ حقیقتوں کا مجموعہ ہے تو ان کی کھوج جاری رہی اور اسی کے ساتھ نئی دریافتوں کا سلسلہ بھی۔ ڈاکٹر ناری کر لکھتے ہیں کہ اس طرح کوئی مانا ہوا سائنسی نظریہ اگر غلط ثابت ہو جائے تو یہ سائنس داں کے لیے بے حد جوش آفریں واقعہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت نے انسان کو اس لائق سمجھا کہ وہ اس کے رازوں میں سے ایک اور راز کو سمجھ سکے : Thus the disproof of a well-established scientific theory is regarded as a very exciting event by the scientist. It means that Nature has considered man to have matured enough to appreciate yet one more of her bag of secrets. اس معاملہ میں اگر آپ سائنس داں کا تقابل آج کے مذہبی انسان سے کریں تو آپ دونوں میں بنیادی فرق پائیں گے ۔ سائنس داں کے فکر میں اضافہ ہو رہا ہے اور مذہبی انسان صرف فکری جمود میں مبتلا ہے ۔ چنانچہ سائنسی علم ہر روز ترقی پر ہے ، مذہبی علم یکساں حالت میں پڑا ہوا ہے ۔ سائنس میں تخلیقیت ہے اور مذہب میں صرف تقلید۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس داں کے سامنے وسیع کائنات ہے جو ہر روز اس پر نئی حقیقت کا انکشاف کر رہی ہے۔ اس کے سامنے اپنے جیسے سائنس داں نہیں جن کا سرمایہ علم ہمیشہ محدود ہوتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader