Urdu book · عظمتِ اسلام

لامتناہی سفر

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہبی انسان کا مرکزِ توجّہ اگر خدا ہوتا تو اس پر بھی مسلسل نئی حقیقتوں کا انکشاف ہوتا رہتا۔ کیونکہ خدا اپنی ذات میں ایک اتھاہ وجود ہے۔ خدا کے بارہ میں فکری سفر کی کوئی حد نہیں۔ آدمی خدا کے بارہ میں جتنا زیادہ سوچے گا اتنا ہی زیادہ اس پر تجلیات الہیٰ کا انکشاف ہوگا۔ سائنس مخلوقات میں غور و فکرا کا علم ہے، اور اس علم میں اتنا زیادہ ارتقائی امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ پھر مذہب تو خالق کے بارہ میں غور و فکر کا علم ہے۔ ایسی حالت میں علم خداوند ی کے ارتقائی امکانات تو لا محدود درجہ تک اس سے زیادہ ہونے چاہئیں۔ اس کے با وجود مذہبی علم میں ترقی کیوں نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مذہبی انسان کا مرکزِ توجّہ خدا ہے ہی نہیں۔ موجودہ مذہبی انسان کا مرکزِ توجّہ صرف اس کے اکابر ہیں۔ اس نے خود اپنے مزعومات کے تحت اپنے کچھ افراد کو اکابر کا درجہ دے دیا ہے۔ خدا کی کتاب اب ان کے یہاں محض لفظی تلاوت کے لیے ہے۔ اپنے اکابر کے ملفوظات اور ارشادات کے سوا اسے کسی اور چیز کی خبر ہی نہیں۔ یہ لوگ محدود انسان میں اٹک گئے ہیں ، پھر لامحدود و حمد کا فیض کس طرح انہیں حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ مذہبی انسان کا دین خدا پرستی نہیں ہے بلکہ اکابر پرستی ہے۔ اور یہی اس طبقہ کی فکری پس ماندگی کا اصل سبب ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ایک اضافہ پذیر چیز ہے (الانفال ۲) ایک انسان جب اللہ پر ایمان لاتا ہے تو اس کا ایمان ایک حالت پر ٹھہرا ہوا نہیں رہتا ، وہ برابر بڑھتا ہے۔ وہ ہمیشہ ترقی کرتا رہتا ہے۔ ایمان کیا ہے۔ ایمان اللہ کی معرفت ہے۔ اللہ ایک لامحدود ہستی ہے۔ اس کے جلوے اور اس کے کمالات کی کوئی حد نہیں۔ انسان اپنی محدودیت کی بنا پر صرف جزئی طور پر ہی اللہ کا ادراک کر پاتا ہے۔ مگر انسان جب اللہ کا اقرار کر کے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیتا ہے تو اللہ اپنی رحمتوں سے ایک کے بعد ایک اس پر اپنے جلوؤں کا اظہار کرتا ہے۔ اس طرح آدمی کی معرفت الہیٰ بڑھتی رہتی ہے۔ وہ نئی نئی دریافتوں کے ایک لامناہی سفر کا مسافر بن بن جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page