Urdu book · عظمتِ اسلام

خلل سے پاک

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

خلل سے پاک قرآن نے اپنے بارہ میں یہ اعلان کیا ہے کہ بے شک یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ اس میں باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ حکیم و حمید کی طرف سے اتاری گئی ہے روانہ لكتاب عزيز۔ لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد) حم السجده ۴۱-۴۲ "باطل نہ اس کتاب کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کتاب کے پیچھے سے۔" یہ ایک جامع بیان ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اندر اور باہر دونوں طرف سے محفوظ ہے۔ نہ یہ ممکن ہے کہ داخلی اعتبار سے اس کے ماننے والے اس کے متن میں کوئی تبدیلی لاسکیں اور نہ باہر کی کوئی طاقت ایسا کر سکتی ہے کہ وہ اس میں کوئی خرابی پیدا کر دے۔ یہ ایک چیلنج بھی ہے اور ایک پیشین گوئی بھی۔ اور صدیوں پر صدیاں گزرتی جارہی ہیں مگر نہ قرآن کے اس چیلنج کو کوئی رد کر سکا اور نہ اس پیشین گوئی میں کوئی فرق واقع ہوا۔ جب کہ دورِ قدیم کی تمام کتابیں اس کا شکار ہو کر اپنی اعتبار یت کھو چکی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں معلوم ہے کہ ان کے ہاتھ میں یہ صفت دی گئی تھی کہ جب وہ اس کو اپنی بغل میں ڈال کر اسے نکالتے تو ان کا ہاتھ سفید چمک دار ہو جاتا تھا۔ یہ واقعہ بائبل میں ان الفاظ میں درج ہے : " پھر خداوند نے موسیٰ سے یہ بھی کہا کہ تو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔ اس نے کہا کہ تو اپنا ہاتھ پھر اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اس نے پھر اسے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لیا۔ جب اس نے اسے سینہ پر سے باہر نکال کر دیکھا تو وہ پھر اس کے باقی جسم کی مانند ہو گیا (خروج ۴ : ۶-۸) اس عبارت میں "کوڑھ سے" کے الفاظ کسی یہودی عالم کا اضافہ ہیں۔ اس نے خود سے تشریح کے طور پر متن کے ساتھ یہ الفاظ لکھ دیے اور ایک عرصہ کے بعد وہ مقدس بن کر اصل متن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page