Urdu book · عظمتِ اسلام

خلل سے پاک

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

کا جز بن گئے ۔ یہ مثال اس بات کی ہے کہ اندر کی طرف سے کتاب میں باطل کے داخل ہونے کا کیا مطلب ہے۔ اسی طرح بیرونی حکمران بار بار یہودی اور مسیحی مراکز پر حملہ کر کے ان کی مقدس کتابوں کے نسخے تباہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آج ان کتابوں کا کوئی بھی قدیم مستند نسخہ موجود نہیں۔ مثال کے طور پر سینٹ میتھو (Matthew) نے اپنی انجیل ابتد اؤ آرامی زبان میں لکھی تھی، مگر وہ ضائع ہوگئی۔ اب اس کتاب کا قدیم ترین نسخہ صرف وہ ہے جو یونانی زبان میں پایا جاتا ہے (VI/697) قرآن کے ساتھ ایسے مختلف اسباب جمع ہوئے جنہوں نے متن قرآن میں اس قسم کے الحاق کو نا ممکن بنا دیا۔ قرآن کے حاشیہ میں مسلمانوں نے ہر دور میں خود ساختہ اضافے کیے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ مگر کسی بھی مسلم شخصیت کے لیے یہ ممکن نہیں ہوا کہ وہ قرآن کے "متن" میں اپنی طرف سے کوئی اضافہ کر دے ۔ مسلمانوں کا ایک گروہ جس نے علی ہٹ کی افضلیت کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ قرآن میں علیاً کبیرا ( النساء۳۲) کی جو آیت ہے اس میں علیاً سے مراد خلیفہ چہارم علیؓ ہیں۔ اگر قرآن کا معاملہ دوسری کتابوں جیسا ہوتا تو قرآن میں ہم علیاً کے ساتھ "ابن ابی طالب" بھی لکھا ہوا پاتے۔ دورِ عباسی میں خلقِ قرآن کا فتنہ اتنے بڑے پیمانے پر پیدا ہوا جیسے یہی قرآنی عقیدہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہو۔ مگر یہ یہاں بھی یہی ہوا کہ سارے نزاعات باہر باہر رہے۔ اگر قرآن محفوظ کتاب نہ ہوتا تو یقینی طور پر قرآن میں یا تو مخلوق کا لفظ بڑھا دیا گیا ہوتا یا غیر مخلوق کا لفظ۔ جس زمانہ میں کمیونزم کی دھوم تھی ، کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ان الارض لله ( الاعراف ۱۲۸) کا مطلب یہ ہے کہ زمین اسٹیٹ کی ہے۔ تاہم اشتراکیت کے ان پر جوش مبلغین کے لیے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ قرآن میں اضافہ کر کے یہ لکھ دیں کہ زمین اللہ کی ہے اور ریاست کی۔ موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم دانشوروں نے یہ کہنا شروع کیا کہ مسلمان کا نصب العین یہ ہے کہ وہ دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کرے۔ مگر دوبارہ یہ لوگ صرف تفسیر قرآن میں یہ بات لکھ سکے ، وہ متن قرآن میں ایسی بات داخل کرنے پر قادر نہیں ہوئے ۔ اگر قرآن کا خصوصی معاملہ نہ ہوتا تو ہم قرآن میں اسی طرح سیاست کی ایک آیت لکھی ہوئی پاتے جس طرح انجیل میں بعد کے نسخوں میں تثلیث کی آیت لکھی ہوئی ملتی ہے : The First Epistle General of JOHN, 5:7

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page