Urdu book · عظمتِ اسلام

قرآن کی طاقت

Urdu book, PDF p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی طاقت ڈاکٹر ذاکر حسین (۱۹۶۹ - ۱۸۹۷) جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے معماروں میں سے تھے۔ آخر عمر میں وہ ہندوستان کے صدر جمہوریہ بنائے گیے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے انتقال کیا۔ انھوں نے ریڈیو پر بہت سی تقریریں کی تھیں۔ ایک تقریر میں انھوں نے اپنے ایک ابتدائی استاد کا ذکر ان الفاظ میں کیا : " خدا بخشے علی گڑھ کے مشہور استاد مولوی عباس حسین صاحب کو ۔ فرمایا کرتے تھے کہ بھائی، قراتِ قرآن کا فن ختم ہو گیا۔ میرے اپنے استاد مرحوم (جن سے میں نے قرات سیکھی، وہ اس کے آخری جاننے والوں میں تھے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر " ق " کا صحیح تلفظ مٹکے کے اندر کر دوں تو مٹکا پھٹ جائے !" (بچوں کی تربیت ، نیا کتاب گھر لاہور، صفحہ ۹۵) کیسی عجیب بات ہے کہ وہ قرآن جس کے اندر پہاڑوں کو ہلا دینے کی طاقت تھی (الحشر ۲۱) جس کو سُن کر کتنے لوگوں کے سینے شق ہو گیے (مثلاً عمر فاروق)، وہ بالاخراء ایک ایسے فن تک جاہپونچا جو بس مٹی کا ایک " مٹکا " توڑ سکتا تھا۔ اور اب یہ حال ہے کہ وہ کاغذ کے صفحات میں چھپا ہوا پڑا ہے ، اور اس کے اندر کسی بھی چیز کو توڑنے کی صلاحیت نہیں۔ حتیٰ کہ اغیار یہ کہنے لگے ہیں کہ قرآن اب ایک ختم شدہ طاقت (Spent force) ہے، اب وہ کوئی کارنامہ انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، اور نہ اس کے ذریعے سے دنیا میں کوئی انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔ یہ حالت اس لیے نہیں ہے کہ خدا نخواستہ قرآن میں کوئی کمی واقع ہوگئی ہے۔ قرآن میں آج بھی تسخیری قوت ہے۔ آج بھی وہ انھیں طاقتوں کا خزانہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے جس کا اظہار اس کے نزول کے ابتدائی زمانہ میں ہوا تھا۔ البتہ قرآن کے حاملین اس محفوظ خزانہ کو حاصل کر کے اس کو باہر کی دنیا میں لانے کے قابل نہ رہے۔ قرآن کی لفظی قرات اگر مٹکا توڑ سکتی ہے تو اس کا معنوی اظہار دلوں اور دماغوں میں زلزلہ پیدا کر سکتا ہے ۔ مگر اصل کمی یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں قرآن کے معنوی اظہار کے لیے کوئی حقیقی کوشش ہی نہیں کی گئی ۔ موجودہ زمانہ میں قرآن کا یہ پہلو ابھی تک غیر اظہار شدہ پڑا ہوا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page