Urdu book · عظمتِ اسلام

قرآن کی طاقت

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی وہ معنوی طاقت کس طرح ظاہر ہوتی ہے جو دلوں پر ضرب لگائے اور سینوں میں ہلچل پیدا کر دے۔ وہ اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن کے معانی کو کھولا جائے۔ اس کو لوگوں کے لیے قابل فہم بنایا جائے۔ اس کو لوگوں کے شعور میں اتارا جائے ۔ جو لوگ عربی زبان جانتے ہیں وہ براہ راست عربی متن سے یہ تاثر حاصل کریں گے ۔ اور جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ بھی جب قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو وہ اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ انسان فطری طور پر ایک ”معبود“ کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ شک اور یقین کے درمیان ہوتا ہے کہ اس کے کان میں قرآن کی پر مرعوب کن آواز آتی ہے : أفى الله شك فاطر السماوات والأرض (کیا تم کو شک ہے اللہ کے بارہ میں جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا) اور وہ حیرانی کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے کہ خدا یا ، تو ہی زمین و آسمان کا خالق ہے۔ میں تیرے آگے جھک کر تیرا اقرار کرتا ہوں۔ انسان تردد میں ہوتا ہے کہ اس کا ئنات کا خدا ایک ہے یا اس کے کئی خدا ہیں۔ پھر وہ قرآن میں ان پراثر الفاظ کو پڑھتا ہے : قل هو الله احد (کہہ دو کہ وہ خدا ایک ہے) اسی طرح وہ قرآن میں پڑھتا ہے کہ لو كان فيهما آلهة الا الله لفسدتا (اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو یقیناً دونوں درہم برہم ہو جاتے) اور پھر انسان کے ذہن کے پر دے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ بے شک خدا صرف ایک ہے، اس کے سوا کوئی خدا یا معبود اس کا ئنات میں نہیں ۔ انسان اس گمان میں رہتا ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔ یہاں بس پیدا ہونا ہے اور پھر مر جانا ہے۔ اس کے بعد وہ قرآن میں پڑھتا ہے : افحسبتم انما خلقناكم عبثاً وانكم الينا لا ترجعون (المؤمنون (۱۱۵) اس کے بعد وہ بے تابا نہ پکار اٹھتا ہے : ربنا ما خلقت هذا باطلا (خدایا تو نے اس کو عبث نہیں پیدا کیا) وہ حیات اور کائنات کی حقیقت سے باخبر ہو کر رب العالمین کے سامنے جھک جاتا ہے۔ اس کی بے معنی زندگی اچانک با معنی زندگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page