نظریہ ارتقاء
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
آئی۔ یہ مدت ڈراون کے مفروضہ ارتقاء کو ظہور میں لانے کے لیے انتہائی حد تک ناکافی ہے۔ سائنس دانوں نے حساب لگا کر اندازہ کیا ہے کہ صرف ایک پروٹینی سالمے کے مرکب کو ارتقائی طور پر وجود میں لانے کے لیے سنکھ مہاسنکھ ملین سال سے بھی زیادہ لمبی مدت درکار ہے۔ پھر صرف دوہزار ملین سال میں زمین کی سطح پر مکمل اجسام رکھنے والے حیوانات کی دس لاکھ سے زیادہ قسمیں کیسے بن گئیں اور نباتات کی دولاکھ سے زیادہ تکمیل یافتہ قسمیں کیوں کر وجود میں آگئیں۔ اس قلیل مدت میں تو ایک معمولی حیوان بھی نہیں بن سکتا۔ کجا کہ مفروضہ ارتقاء کے مطابق لا تعداد مراحل سے گزر کر انسان جیسی اعلیٰ نوع ظہور میں آجائے۔ نظریہ ارتقاء حیاتیاتی عمل میں جن نوعی تبدیلیوں کو فرض کرتا ہے ان کے متعلق ریاضیات کے ایک عالم پاچو (Patau) نے حساب لگایا ہے۔ اس کے مطابق کسی نوع میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کو مکمل ہونے کے لیے دس لاکھ پشتوں کی مدت درکار ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر مفروضہ ارتقائی عمل کے ذریعے کتے جیسی نسل میں ان گنت تبدیلیوں کے جمع ہونے سے گھوڑے جیسا بالکل مختلف جانور بنے تو اس کے بننے میں کس قدر زیادہ لمبا عرصہ درکار ہوگا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے وہ نظریہ وضع کیا گیا جس کو پینس پرمیا (Panspermia) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ زندگی ابتدا زمین کے باہر بالائی خلا میں کسی مقام پر پیدا ہوئی اور وہاں سے سفر کر کے زمین پر آئی۔ مگر تحقیق نے بتایا کہ اس کو ماننے میں اور بھی زیادہ بڑی بڑی مشکلیں حائل ہیں۔ زمین کے علاوہ وسیع کائنات کے کسی بھی ستارہ یا سیارہ پر وہ اسباب موجود نہیں ہیں جہاں زندگی جیسی نشو و نما

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader