Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

تعداد ان لوگوں کی تھی جن کے پاس مکمل قرآن اپنی اصل ترتیب کے ساتھ جمع شدہ موجود تھا، ان میں سے چار خاص طور پر قابل ذکر ہیں : مَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَجْمَعِ الْقُرْآنَ غَيْرُ أَرْبَعَةٍ : أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4718)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو چار آدمیوں کے پاس مکمل قرآن تحریری طور پر موجود تھا: ابو الدرداء، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید۔ قرآن مکمل طور پر لکھا ہوا عہد نبوت میں موجود تھا۔ البتہ کتابی شکل میں ایک جگہ مجلد نہیں ہوا تھا۔ قسطلانی شارح بخاری کے حوالہ سے الکتانی نے نقل کیا ہے: وقد كان القرآن كله مكتوبًا في عهده صلى الله عليه وسلم لكنه غير مجموع في موضع واحد (التراتيب الادارية للكتانی، جلد 2، صفحه 384)۔ قرآن کا کل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی لکھا جا چکا تھا۔ البتہ ایک جگہ تمام سورتوں کو جمع نہیں کیا گیا تھا۔ حارث محاسبی نے، جو امام حنبل کے معاصر ہیں۔ اپنی کتاب فہم السنن میں لکھا ہے : و كان الْقُرْآنُ مُنْتَشِرًا فَجَمَعَهَا جَامِعٌ وَرَبَطَهَا بِخَيْطٍ (الابتقان في علوم القرآن، جلد 1، صفحه (207) ۔ قرآن کی سورتیں اس میں الگ الگ لکھی ہوئی تھیں۔ ابو بکر کے حکم سے جامع (زید بن ثابت) نے ایک جگہ سب سورتوں کو جمع کیا اور ایک دھاگہ سے سب کی شیرازہ بندی کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page