Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی کتابت تین مراحل سے گزری ہے۔ کتابت، تالیف، جمع۔ پہلے مرحلہ میں کوئی آیت یا سورہ اترتے ہی اس کو کسی ٹکڑے پر لکھ لیا جاتا تھا، اس سلسلہ میں حسب ذیل چیزوں کے نام آئے ہیں: رقاع : چمڑا لخاب : پتھر کی سفید پتلی تختیاں (سلیٹ) كتف : اونٹ کے مونڈھے کی گول ہڈی عسیب : کھجور کی شاخ کی جڑ کا کشادہ حصہ دوسرے مرحلے کے عمل کو حدیث میں تالیف سے تعبیر کیا گیا ہے حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں: كنا عند رسول الله صلى الله عليه عليه وسلم نُؤَلِّفُ القرآن من الرّقاع (مسند احمد، حدیث نمبر 21607)۔ ہم لوگ رقاع پر قرآن تالیف کرتے تھے۔ گویا یا اولاً ہر آیت نازل ہوتے ہی لکھ لی جاتی تھی۔ پھر جب سورہ مکمل ہو جاتی تو پوری سورہ کو مرتب شکل میں رقاع (چمڑے) پر لکھتے تھے۔ اس قسم کے مولفہ قرآن (مکمل یا غیر مکمل) دور نبوت ہی میں کثرت سے لوگوں کے پاس ہو چکے تھے۔ حضرت عمر اسلام لانے کے مشہور واقعہ میں ہے کہ بہن کو زد و کوب کرنے کے بعد آپ نے کہا وہ کتاب مجھے دکھاؤ جو ابھی تم پڑھ رہے تھے (أَعْطِينِي هَذِهِ الصَّحِيفَةَ الَّتِي سَمِعْتُكُمْ تَقْرَءُونَ آنِفًا)۔ بہن نے جواب دیا ناپاکی کے ساتھ تم اس کو چھو نہیں سکتے۔ پھر آپ نے غسل کیا اور ان کی بہن نے کتاب انھیں دی : فَاعْتَسَلَ، فَأَعْطَتهُ الصحيفة (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 296)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page