حفاظت قرآن
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
لما نزلت {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} قالَ النَّبِي صلى الله عليه وسلم: ادْعُ زيدا فجَاء ومَعَهُ الدواة واللوح والكتف فَقَالَ: اكْتُبْ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غير أولي الضَّر رِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ الله ... ( صحيح البخاری ، حدیث نمبر (4990)۔ جب آیت لایستوی القاعدون الخ اتری تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو بلاؤ اور وہ تختی اور قلم اور کتب اور دوات لے کر آئیں ۔ جب وہ آگئے تو کہا کہ لکھو لایستوی (برابر نہیں ہو سکتے بیٹھے رہنے والے اہل ایمان جن کو کوئی عذر نہیں اور وہ اہل ایمان جو اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں )... آپ کا معمول تھا کہ نازل شدہ آیات کو لکھانے کے بعد اس کو پڑھوا کر سنتے تھے ۔ زید بن ثابت کا بیان ہے : فَإِنْ كَانَ فِيهِ سَقَطَ أَقَامَهُ، ثُمَّ أَخْرَجَ بِهِ إِلَى النَّاسِ ( المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (1913) ۔ اگر کوئی جزء لکھنے سے چھوٹ جاتا تو اس کو درست کراتے۔ جب یہ سارا کام پورا ہو جاتا تب اشاعت عام کا حکم دیا جاتا۔ کاتبان وحی (وہ صحابہ جن سے آپ قرآن کو لکھواتے تھے) ان کی تعداد 42 تک شمار کی گئی ہے۔ (ان 42 کاتبوں کے نام کے لیے ملا حظہ جو الکتانی کی کتاب التراتیب الاداریہ، جلد 1، صفحہ 16۔ مطبوعہ مراکش ) ۔ ابن عبد البر نے عقد الفرید (جلد 4، صفحہ 114) میں لکھا ہے کہ حنظلہ ابن ربیع تمام کاتبوں کے " خلیفہ " تھے ۔ یعنی ان کو حکم تھا کہ وہ ہر وقت آپ کی صحبت میں موجود رہیں ۔ آپ کے اس اہتمام کا نتیجہ یہ تھا کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو کثرت سے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزاء لکھے ہوئے موجود تھے۔ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader