Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

تیسرے مرحلہ کے کام کو ''جمع'' سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی پورے قرآن کو ایک جلد میں یکجائی طور پر لکھنا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مختلف رسالوں اور کتابوں کی شکل میں ہوتا تھا۔ یہ تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز کے اوراق پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کرنے کا طریقہ آپ کے عہد میں رائج نہ تھا۔ بخاری کی ایک روایت کے مطابق صرف چار صحابہ، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابو زید، زید بن ثابت تھے، جنھوں نے پورے قرآن کو آپ کے عہد میں مجموعی شکل میں تیار کر لیا تھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3810)۔ تاہم ان کی حیثیت نجی مجموعوں کی تھی۔ محمد بن کعب القرظی کے حوالہ سے ابن سعد نے جو روایت نقل کی ہے، اس کے مطابق ایسے جامعین قرآن کی تعداد پانچ تھی: جَمَعَ الْقُرْآنَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَمْسَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ (طبقات ابن سعد، جلد 2، صفحہ 307)۔ حضرت ابو بکر صدیق نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ انھوں نے ریاستی نظام کے تحت تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر مجلد کرا دیا۔ امام مالک شہاب زہری سے اور شہاب زہری عبد اللہ بن عمر کے صاحبزاد ہ سالم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ زید بن ثابت نے القراطیس پر ابو بکر کے حکم سے قرآن کی کل سورتوں کو لکھا تھا (المصاحف لابن ابی داود، صفحہ 57)۔ بعض محققین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ایک ہی تقطیع کے اوراق جب بنائے جاتے تھے تو ان کو قراتیس کہتے تھے۔ ایک سائز کے اوراق پر لکھے ہونے کی وجہ سے ابو بکر الصدیق کی حکومت کے مرتب کردہ اس نسخہ کو ربعہ کہتے تھے (الاتقان، جلد 1، صفحہ 85-84)۔ ربعہ کا ترجمہ چو کھنٹا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page