حفاظت قرآن
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
معلوم ہوتا ہے کہ ان اوراق کا طول و عرض غالباً مساوی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں مصر، عراق، شام اور یمن وغیرہ میں قرآن کے ایک لاکھ سے زیادہ نسخے موجود تھے۔ بعد کے زمانے میں لکھا ہوا قرآن ہی لوگوں کے لیے قرآن کو سیکھنے کا ذریعہ بن سکتا تھا، تا ہم ایک خطرہ اب بھی تھا۔ مقدس کتاب میں انتہائی معمولی فرق بھی زبردست اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ اندیشہ تھا کہ مختلف لوگ اگر اپنے طور پر قرآن لکھیں تو کتابت اور قرآت کا فرق مسلمانوں کے اندر زبردست اختلاف کھڑا کر دے گا اور اس کو ختم کرنے کی کوئی سبیل باقی نہ رہے گی۔ مثلاً سورۂ فاتحہ میں ایک ہی لفظ کی محض ادائیگی کے فرق سے کوئی مالک یوم الدین لکھتا، کوئی مَلِکِ یَوْمِ الدّین اور کوئی مَلِکَ یوم الدین۔ پھر جیسے جیسے زمانہ گزرتا، طرز تحریر اور رسم الخط کا فرق نئے نئے اختلاف پیدا کرتا چلا جاتا۔ اس لیے حضرت عمر کے مشورے سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے طے کیا کہ سرکاری اہتمام میں قرآن کا ایک مستند نسخہ لکھوا دیا جائے اور اختلافِ قرآت کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس کے لیے زید بن ثابت سب سے زیادہ موزوں شخص تھے، کیونکہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب (سیکریٹری) تھے۔ زید اور ابی بن کعب دونوں "عرضۂ اخیرہ" میں شامل تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست پورے قرآن کو نبوی ترتیب کے ساتھ سنا تھا۔ ان کو پورا قرآن مکمل طور پر یاد تھا اور اس کے ساتھ پورا قرآن مرتب طور پر لکھا ہوا بھی ان کے پاس موجود تھا۔ خلیفہ اول نے ان کو حکم دیا کہ تم قرآن کا تتبع کرو اور اس کو جمع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader