Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

کردو : فَتَتَبّعَ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4679)۔ اس بات کے طے ہونے کے بعد حضرت عمر نے مسجد میں اعلان کر دیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی ٹکڑا موجود ہو، وہ لے آئے اور زید کے سامنے پیش کرے۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں قرآن "کاغذ" یعنی چمڑے، پتھر اور کھجور کی چھال وغیرہ پر لکھا ہوا تو موجود تھا، اور بہت سے لوگوں کے سینوں میں، رسول اللہ سے سن کر، مرتب طور پر بھی محفوظ تھا۔ مگر وہ ایک کتاب کی طرح بین الدفتین اب تک جمع نہیں ہوا تھا۔ خلیفہ اول نے حکم دیا کہ اس کو بین الدفتین جمع کرو اور اس کو ایک مجلد کتاب کی صورت میں یکجا کر دو: وَقَالَ الْحَارِثُ الْمُحَاسِبِيُّ فِي كِتَابِ فَهْمِ السُّنَنِ: كِتَابَةُ الْقُرْآنِ لَيْسَتْ بِمُحْدَثَةٍ فَإِنَّهُ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِكِتَابَتِهِ وَلَكِنَّهُ كَانَ مُفَرَّقًا فِي الرِّقَاعِ وَالْأَكْتَافِ وَالْعُسُبِ فَإِنَّمَا أَمَرَ الصِّدِّيقِ بِنَسْخِهَا مِنْ مَكَانٍ إِلَى مَكَانٍ مُجْتَمِعًا وَكَانَ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ أَوْرَاقٍ وُجِدَتْ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا القُرآنُ مُنْتَشِرُ فَجَمَعَهَا جَامِعُ وَرَبَطَهَا بِخَيْطٍ حَتَّى لَا يَضِيعَ مِنْهَا شَيْءٌ (الاتقان في علوم القرآن ، جلد 1، صفحه 40)۔ حارث محاسبی فہم السنن میں لکھتے ہیں کہ قرآن کی کتابت کوئی نئی بات نہ تھی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لکھوایا کرتے تھے۔ مگر وہ رقاع اور اکتاف اور عسیب میں متفرق طور پر لکھا ہوا تھا۔ ابو بکر صدیق نے اس کو مرتب طور پر یکجا لکھنے کا حکم دیا۔ اور یہ بمنزلہ ان اوراق کے تھا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page