Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

میں پائے گئے تھے۔ ان میں قرآن منتشر طور پر لکھا ہوا تھا۔ اسی کو جمع کرنے والے جمع کر دیا اور ایک دھاگے میں اس طرح پرو دیا کہ اس کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو۔ عہد صدیقی میں جمع قرآن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے پہلے قرآن "جمع" نہ تھا اور آپ کے زمانہ خلافت میں اس کو جمع کیا گیا۔ قرآن اس سے پہلے بھی مکمل طور پر جمع تھا۔ "عرضۂ اخیرہ" میں متعدد صحابہ کو شامل کر کے آپ نے اس کی تصدیق و توثیق بھی فرمادی تھی۔ جمع قرآن کا یہ اہتمام صرف اس لیے ہوا کہ معمولی امکانی فروق کو بھی باقی نہ رہنے دیا جائے جو حافظہ یا کتابت میں فرق کی وجہ سے ہو سکتے تھے۔ مثال کے طور پر حضرت عمر نے زید بن ثابت کو یہ آیت سنائی: مِنَ المُهْجِرِيْنَ وَالأَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَانٍ (100:9) زید نے کہا مجھے تو یہ آیت جس طرح یاد ہے، اس میں الانصار اور الذین کے درمیان ایک "واو" بھی ہے۔ چنانچہ تحقیق شروع ہوئی بالآخر مختلف لوگوں کی گواہیوں سے ثابت ہوا کہ زید کی رائے صحیح تھی۔ چنانچہ مصحف میں آیت کو "واو" کے ساتھ لکھا گیا (فضائل القرآن للقاسم بن سلام، صفحہ 310)۔ وَالسَّابِقُوْنَ الأُوْلُوْنَ مِنَ المُهَاجِرِيْنَ وَالأَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَانٍ (9:100)۔ اور مہاجرین وانصار میں جو لوگ سابق اور مقدم ہیں اور جنھوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ مولا نا بحر العلوم شرح سلم میں لکھتے ہیں "قرآن کی یہ ترتیب جس پر وہ آج ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page