Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس لیے کہ ان دس قاریوں نے جن کی قرآت اسلامی دنیا میں بالا اتفاق مقبول ہے، صحیح سندوں سے جس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، قرآن کو اسی ترتیب سے نقل کیا۔" زید بن ثابت نے جب پورا قرآن مرتب کر لیا تو ان کے مصحف کے علاوہ جتنے مختلف اجزاء اکٹھا ہوئے تھے، ان سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ یہ مجلد مصحف خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے پاس رکھ دیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد وہ خلیفہ ثانی حضرت عمر کے پاس رہا۔ پھر آپ کی وفات کے بعد وہ حفصہ بنت عمر کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ آیا تو اسلام بہت پھیل چکا تھا اور مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ اس وقت مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے لیے قرآن سیکھنے کا ذریعہ وہ صحابہ تھے جو مدینہ سے نکل کر ممالک اسلامیہ میں ہر طرف پھیل گئے تھے۔ مثلاً اہل شام ابی بن کعب سے قرآن سیکھتے تھے۔ اہل کوفہ عبد اللہ بن مسعود سے اہل عراق ابو موسیٰ اشعری سے۔ تاہم اختلاف لہجہ اور اختلاف کتابت کی وجہ سے دوبارہ لوگوں میں قرآن کے بارے میں اختلافات ہونے لگے حتی کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے : حتی کَفَّرَ بعضہم بعضًا (فتح الباری لابن حجر العسقلانی، جلد 9، صفحہ 18)۔ ابن ابی داؤد نے کتاب المصاحف میں یزید بن معاویہ نخعی سے نقل کیا ہے کہ ولید بن عقبہ کے زمانہ میں ایک بار وہ کوفہ کی مسجد میں تھے۔ حذیفہ بن الیمان بھی اس وقت مسجد میں موجود تھے۔ مسجد میں ایک حلقہ قرآن کے ذکر میں مشغول تھا۔ ایک شخص نے کوئی آیت پڑھی اور کہا قرأۃ ابی موسیٰ الاشعی۔ حضرت حذیفہ یہ سن کر غضب ناک ہو گئے۔ انھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page