حفاظت قرآن
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی اور فرمایا: هَكَذَا كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا، وَاللَّهِ لَأَرْكَبَنَّ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ (فتح الباری لابن حجر، جلد 9، صفحہ 18)۔ تم سے پہلے جو لوگ تھے، انھوں نے اسی طرح اختلاف کیا، خدا کی قسم میں سوار ہو کر امیر المومنین (عثمان) کے پاس جاؤں گا۔ عمارہ بن غزیہ کی روایت کے مطابق حذیفہ بن الیمان واپس آئے۔ وہ ایک فوجی افسر تھے اور اس وقت آرمینیہ میں اہل شام سے اور آذر بائیجان میں اہل عراق سے جنگ کر کے لوٹے تھے۔ وہ مدینہ پہنچے تو اپنے مکان جانے کے بجائے سیدھے خلیفہ ثالث کے پاس آئے اور کہا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ، اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4702)۔ اے امیر المومنین لوگوں کو سنبھالیے، قبل اس کے کہ لوگ کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف میں پڑ جائیں جس طرح یہود و نصاری اختلاف میں پڑ گئے۔ حضرت عثمان کے زمانے میں ایسی آبادیاں اسلام میں داخل ہو گئیں جن کی مادری زبان عربی نہ تھی۔ عربی الفاظ و حروف کے صحیح تلفظ کی قدرت ظاہر ہے ان میں نہیں ہو سکتی تھی ۔ خود عرب کے مختلف قبائل کے لہجے الگ الگ تھے۔ اس سے قرأت قرآن میں اختلاف پیدا ہوا۔ نتیجہتاً نقل و تحریر میں بھی اختلاف شروع ہو گیا۔ ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ قبیلہ بنی ہذیل "حتیٰ" کو "عتی" پڑھتا تھا۔ ابن مسعود اسی قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے "حتیٰ"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader