حفاظت قرآن
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
حين" کو "عتی عین" پڑھتے تھے۔ قبیلہ بنواسد "تعلمون" کی "ت" "کوزیر کے ساتھ (تِعْلَمُونَ) پڑھتا تھا۔ مدینہ کے لوگ "تابوت" کا تلفظ "تابوہ" کرتے تھے۔ قبیلہ قیس "ک" "تانیث کا تلفظ "ش" سے کرتے تھے اور قرآنی آیت "قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا" کو "جعل رَبُّش تحتش سرِيًّا" پڑھتے۔ اسی طرح قبیلہ تمیم "آن" کے لفظ کو "عن" کی شکل میں ادا کرتے تھے اور "عَسَى اللَّهُ عن يأتي" پڑھتے تھے۔ ایک قبیلہ "س" کو "ت" کی شکل میں ادا کرتا تھا اور " أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاتِ مَلِكِ النَّاتِ إِلَهِ النَّاتِ" پڑھتا تھا، وغیرہ۔ ان حالات میں حذیفہ بن یمان صحابی کے مشورہ سے حضرت عثمان نے صدیقی نسخہ کی نقلیں تیار کرائیں اور تمام شہروں میں اس کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا۔ یہ کام دوبارہ حضرت زید بن ثابت انصاری کی سرکردگی میں کرایا گیا اور ان کی مدد کے لیے گیارہ افراد مقرر کیے گئے ۔ خلیفہ سوم کے حکم کے مطابق اس کمیٹی نے قرآن کو قریش کے لہجہ پر تحریر کیا جو کہ پیغمبر اسلام کا لہجہ تھا۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ دوسرے نسخے جو لوگوں نے بطورِ خود لکھے ہیں وہ ان کو حکومت کے حوالے کردیں۔ چنانچہ ان کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا گیا۔ اس طرح قرآن کو لکھاوٹ یعنی نوشت وکتابت کی حد تک ایک بنا دیا گیا۔ تاہم فطری اختلاف کی وجہ سے سارے لوگ ایک طرح قرآن کو پڑھنے پر قادر نہ ہو سکتے تھے۔ اس لیے لوگوں کو آزادی دے دی گئی کہ، سات طریقوں یعنی متعدد لب و لہجہ میں پڑھ سکتے ہیں۔ صدیق اکبر کا جمع قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ایک سال بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader