Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

انجام پایا تھا، عثمانی مصحف کی ترتیب آپ کی وفات کے پندرہ سال بعد ہوئی۔ تیسری صدی کے مشہور صوفی اور عالم حارث محاسبی کا قول اتقان میں سیوطی نے نقل کیا ہے: وَقَالَ الْحَارِثُ الْمُحَاسِبِيُّ: الْمَشْهُورُ عِنْدَ النَّاسِ أَنَّ جَامِعَ الْقُرْآنِ عُثْمَانُ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّمَا حَمَلَ عُثْمَانُ النَّاسَ عَلَى الْقِرَاءَةِ بِوَجْهِ وَاحِدٍ (الإتقان فی علوم القرآن، جلد 1، صفحہ 211)۔ لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت عثمان جامع قرآن ہیں، حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ انہوں نے صرف یہ کیا کہ لوگوں کو قرآن کی ایک قرات پر جمع کر دیا۔ بعض لوگوں نے تفنن طبع یا عناد کے طور پر اس قسم کی باتیں مشہور کیں کہ حضرت عثمان نے قرآن میں تحریف کر ڈالیں۔ مثلاً قرآنی آیت وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ (37:24) کے آخر میں عن ولایۃ علی کے الفاظ تھے، جنھیں عہد عثمانی میں بالقصد قرآن سے خارج کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے مضحکہ خیز بات مشہور کی کہ "ولایت" کے نام سے ایک مستقل سورہ قرآن میں تھی، جس میں اہل بیت کے اسماء اور ان کے حقوق وغیرہ کا تفصیلی ذکر تھا۔ اس کو قرآن سے نکال دیا گیا، اس قسم کی باتیں قطعاً بے بنیاد ہیں۔ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (75:17) شیعہ و سنی دونوں کے نزدیک بالاتفاق قرآن کی آیت ہے۔ پھر قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہوئے کیسے کوئی شخص اس قسم کی بے بنیاد باتوں کو مان سکتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page