حفاظت قرآن
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ مشہور شیعی عالم علامہ طبرسی نے لکھا ہے: فَأَمَّا الزِّيَادَةُ فِيهِ فَمُجْمَعٌ عَلَى بُطْلَانِهِ، وَأَمَّا النُّقْصَانُ مِنْهُ فَقَدْ رَوَى جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا وَقَوْمٌ مِنْ حَشْوِيَّةِ الْعَامَّةِ أَنَّ فِي الْقُرْآنِ تَغْيِيرًا وَنُقْصَانًا، وَالصَّحِيحُ مِنْ مَذْهَبِ أَصْحَابِنَا خِلَافُهُ (تفسیر الطبرسی، جلد 1، صفحہ 43-42)۔ قرآن میں اضافہ (شیعہ و سنی دونوں کے) اجماع سے غلط ہے۔ باقی کمی تو بعض شیعوں سے اور عامہ کے حشویہ (یعنی اہل سنت کے محدثین) سے اس کا دعوی منقول ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ یہ بھی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی بھی محققین نے اس قسم کے دعوے نہیں کیے۔ یہ موقع پرستوں کے شوشے تھے جو انھوں نے سیاسی مقصد کے لیے وضع کیے۔ اہل بیت کی فضیلت کی ساری موضوعات اس لیے گھڑی گئیں تاکہ ان کے لیے خلافت کا استحقاق ثابت ہو جائے۔ مثلاً ایک غیر معروف شخص محمد بن جہم الہلالی تھے۔ انھوں نے امام جعفر صادق کی طرف منسوب کر کے یہ مشہور کیا کہ قرآنی آیت أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَى مِنْ أُمَّةٍ (16:92) میں تحریف کی گئی ہے۔ اصل الفاظ تھے: أَيِّمَةٌ هِيَ أَزْكَى مِنْ أَيِّمَتِكُمْ (الکافی للکلینی، جلد 1، صفحہ 292)۔ یعنی ہمارے بنی ہاشم کے ائمہ و حکمران بنی امیہ کے حکمرانوں سے بہتر ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا حضرت عثمان نے 25ھ میں حفصہ بنت عمر کے پاس سے مصحف صدیقی منگوایا۔ اس وقت قرآن کے کاتب اول زید بن ثابت انصاری موجود تھے۔ ان کی رہنمائی میں آپ نے بارہ آدمیوں کی جماعت مقرر کی۔ انھوں نے صدیقی نسخہ کی بنیاد پر قرآن کی سات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader