عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
پاسکے۔ مثلاً پانی جو زندگی کے ظہور اور بقا کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے وہ اب تک کی معلومات کے مطابق زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ پھر کچھ ذہین افراد نے فجائی ارتقاء(Emergent Evolution)کا نظریہ وضع کیا۔ اس کے مطابق فرض کیا گیا کہ زندگی یا اس کی انواع بالکل اچانک پیدا ہو جاتی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ محض ایک لفظ ہے، نہ کہ کوئی علمی نظریہ۔ اچانک پیدائش کبھی اندھے قوانین کے ذریعہ ممکن نہیں۔ اچانک پیدائش کا نظریہ لازمی طور پر ایک مداخلت کرنے والے کا تقاضا کرتا ہے۔ یعنی اس خارجی عامل کا جس کو نہ ماننے کے لیے یہ تمام نظریات گھڑے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی توجیہ ایک خالق کو مانے بغیر ممکن ہی نہیں۔ خالق کو چھوڑ کر دوسری جو بنیاد بھی تلاش کی جائے گی وہ کائنات کے نقشہ سے ٹکرا جائے گی، وہ اس کے ڈھانچے میں جگہ نہیں پاسکتی۔ انسان کی لا علمی لندن سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے ”قاموس جہالت“۔ اس قاموس کی ترتیب میں مختلف شعبوں کے ممتاز اہل علم نے حصہ لیا ہے۔ اس کے تعارف نامہ میں بتایا گیا ہے کہ قاموس جہالت میں ساٹھ نہایت معروف سائنس دانوں نے مختلف تحقیقی شعبوں کا جائزہ لے کر دکھایا ہے کہ دنیا کے متعلق ہمارے علم میں کون سے بامعنی خلا پائے جاتے ہیں: In the Encyclopaedia of Ignorance some 60 well- known scientists survey different fields of research, trying to point out significant gaps in our knowledge of the world.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader