حفاظت قرآن
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
نقلیں تیار کریں۔ پھر یہ نسخے تمام اسلامی ملکوں میں بھیج دیے گئے۔ حضرت عثمان نے حکم دیا کہ اس کے سوا جتنے مصاحف لوگوں نے بطور خود لکھ لیے ہیں وہ سب جلا دیے جائیں (المصاحف لابن ابی داود، صفحہ 91)۔ ایک نسخہ انھوں نے دارالسلطنت مدینہ میں رکھا اور اس کا نام "الامام" رکھا اور بقیہ ہر گوشہ مملکت میں بھیج دیا (المصاحف لابن ابی داود، صفحہ 90)۔ مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ، کوفہ میں سے ہر جگہ ایک ایک نسخہ بھیجا۔ یہ مصحف بعد کی صدیوں میں انتہائی صحت کے ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ دور پریس میں پہنچ گیا جس کے بعد کسی ضیاع یا تغیر کا کوئی سوال نہیں۔ اس ابتدائی نسخہ کے ساتھ بعد کے نسخوں کی مطابقت کا کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے، اس کی دو چھوٹی سی مثال لیجئے۔ سورہ المؤمنون (سورہ نمبر 23) کی آیت 108 میں قال (الف کے ساتھ) لکھا ہوا ہے، یہی لفظ اسی سورہ کی اگلی آیت 112 میں قل (بغیر الف) لکھا گیا ہے۔ گویا ابتدائی مصحف میں جو لفظ جس شکل میں لکھا ہوا تھاٹھیک اسی طرح اس کو لکھا جاتا رہا۔ خواہ ایک ہی لفظ، دو جگہ دو املاء کے ساتھ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح سورہ قیامہ کی آیت "وقیل من" کے بعد قاری تھوڑی دیر وقفہ کے لیے ٹھہرتا ہے۔ پھر "راق" پڑھتا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ہلکا وقف کیا تھا۔ قرآن میں اس طرح کے دوسرے متعدد مقامات ہیں، مگر کبھی قرآن پڑھنے والوں کو یہ خیال نہیں ہوا کہ بطور خود دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح وقف دے کر پڑھنا شروع کر دیں۔ آج جو قرآن مسلمانوں کے درمیان رائج ہے، اس کی صحت میں کسی فرقہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ حتیٰ کہ محقق شیعہ علماء بھی اس معاملہ میں متفق ہیں۔ مشہور شیعہ عالم ابو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader