Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

عبداللہ الزنجانی (وفات (1941) نے اپنی کتاب تاریخ القرآن میں نقل کیا ہے کہ علی بن موسی المعروف بابن طاؤس (664-589ھ) جو محقق شیعہ علما میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب سعد السعود میں شہرستانی سے نقل کیا ہے، جو انہوں نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں سوید بن علقمہ سے روایت کیا ہے: عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيّاً بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَقُولُ: "أَيُّهَا النَّاسُ! اللَّهَ اللَّهَ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ وَقَوْلَكُمْ: حَرَّاقُ الْمَصَاحِفِ، فَوَاللَّهِ مَا حَرَّقَهَا إِلَّا عَنْ مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. جَمَعَنَا وَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْقِرَاءَةِ الَّتِي اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهَا، يُلْقَى الرَّجُلُ فَيَقُولُ قِرَاءَتِي خَيْرٌ مِنْ قِرَاءَتِكَ، وَهَذَا يَجُرُّ إِلَى الْكُفْرِ؟ فَقُلْنَا: مَا الرَّأْيُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ النَّاسَ عَلَى مُصْحَفِ وَاحِدٍ، فَإِنَّكُمْ إِنِ اخْتَلَفْتُمُ الْيَوْمَ كَانَ مَنْ بَعْدَكُمْ أَشَدَّ اخْتِلَافاً. فَقُلْنَا: نِعْمَ مَا رَأَيْتَ. (تاریخ القرآن لابی عبد الله الزنجانی، موسسہ ہنداوی، 2016، صفحه 74)۔ وہ کہتے ہیں، میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ اے لوگو، اللہ اللہ، عثمان کے معاملہ میں غلو سے بچو۔ یہ نہ کہو کہ انھوں نے مصاحف کو جلایا۔ خدا کی قسم انھوں نے نہیں جلایا مگر اس وقت کہ انھوں نے صحابہ کی جماعت کو اکٹھا کیا اور پوچھا کہ تم قرآن میں اختلاف قرأت کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ ایک شخص دوسرے سے ملتا ہے اور کہتا ہے۔ میری قرأت تمھاری قرأت سے بہتر ہے۔ اس قسم کی بات کفر تک جاتی ہے۔ صحابہ نے کہا آپ کی کیا راۓ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کردوں۔ کیوں کہ تم اگر آج اختلاف میں پڑ گئے تو تمھارے بعد لوگ اور زیادہ اختلاف میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page