کتاب محفوظ
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
(period)کے معنی میں لے سکیں۔ مگر بائبل میں مذکورہ فقرہ کے اضافہ نے اس کو دور کے معنی میں لینا نا ممکن بنا دیا۔ بائبل میں اس طرح کی مثالیں بہت ہیں۔ حتیٰ کہ بعض مثالیں نہایت بھونڈی ہیں۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا نے یہ معجزہ دیا کہ وہ اپنا ہاتھ نکالیں تو وہ چمکنے لگے۔ مگر بائبل میں اس کا ذکر ہے تو وہاں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ تو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔ اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا (خروج، 4: 7)۔ بائبل کے اس فقرہ میں "کوڑھ سے" یقینی طور پر بعد کے لوگوں کا تشریحی اضافہ ہے۔ قرآن کے الفاظ کے مطابق حضرت موسیٰ کے ہاتھ کا چمکنا خدائی سبب سے معلوم ہورہا ہے اور بائبل کے الفاظ کے مطابق مرض کے سبب سے۔ قرآن تمام آسمانی کتابوں میں واحد کتاب ہے جس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان کتابوں کے حامل انسانوں پر ڈالی گئی تھی۔ اس لیے قرآن میں ان کے لیے استخفاظ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی حفاظت چاہنا : اِسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتٰبِ اﷲِ (44 :5)۔ وہ خدا کی کتاب پر نگہبان ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے برعکس، قرآن کے بارے میں حافظ کا لفظ آیا ہے یعنی حفاظت کرنے والا : اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ (15: 9)۔ یہ یاد دہانی (قرآن) ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ قرآن میں ایسے بہت سے مواقع تھے جہاں حاملین قرآن کے لیے گنجائش تھی کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader