Urdu book · عظمتِ قرآن

کتاب محفوظ

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں مذکورہ بالا قسم کی تبدیلیاں کر ڈالیں ۔ کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ انھوں نے عملاً ایسا کیا بھی مگر انہوں نے جو کچھ کیا وہ حاشیہ کی حد تک محدود رہا ۔ متن میں وہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ کر سکے ۔ حاشیہ اور تفسیر میں چونکہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ تھے، اس لیے اس میں انھوں نے طرح طرح کی معصومانہ تبدیلیاں کر دیں ۔ مگر جہاں تک متن کا تعلق ہے، اس کو خدا نے براہِ راست اپنی نگرانی میں لے رکھا تھا، اس لیے یہاں وہ کسی قسم کارّدوبدل کرنے سے قاصر رہے ۔ اس موقع پر وضاحت کے لیے ہم دو مثالیں دیتے ہیں ۔ قرآن کی پہلی نزولی آیت ہے: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (96:1) ۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ۔ اسی طرح دوسرے مقام پر ہے: سَنُقْرِئُكَ فَلاَ تَنْسَى (87:6) ۔ ہم تجھ کو پڑھا دیں گے پھر تو نہ بھولے گا۔ ان آیات میں اقرأ اور سنقرء کے الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی کتاب یا کوئی لکھی ہوئی چیز رکھی گئی اور کہا گیا کہ اس کو پڑھو ۔ یہ بات مسلمانوں کے عام عقیدہ کے سراسر خلاف ہے ۔ کیونکہ مسلمان ساری دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ اُمّی تھے۔ گویا آیت کے یہ الفاظ اپنے ظاہر کے اعتبار سے مسلمانوں کے عقیدہ میں مانع ہیں اور مخالفین اسلام کو غیر ضروری طور پر یہ کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُمی نہیں تھے بلکہ پڑھے لکھے تھے۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ دوسری کتابوں کے متن کی طرح مسلمان قرآن کے ان الفاظ کو بدل دیں۔ یہ قرآن کے محفوظ کتاب ہونے کا ایک واضح داخلی ثبوت ہے۔ ورنہ اگر دوسری کتابوں کی طرح کا معاملہ ہوتا تو قرآن میں ہم کو اقرأ (پڑھو) کی جگہ اُتْلُ (تلاوت کرو) یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page