کتاب محفوظ
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
تَلَفُّظ (بولو) لکھا ہوا ملتا۔ اسی طرح لکھنے والوں نے سَنَقْرِئُكَ (ہم تم کو پڑھائیں گے) کے بجائے سَنَحْفَظُكَ (ہم تمھارے لیے محفوظ کر دیں گے) لکھ دیا ہوتا۔ اسی طرح ایک مثال سورہ القیامۃ کی آیت ہے: وَقِیلَ مَنْ رَاقٍ (75:27)۔ اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک والا۔ تمام دنیا کے مسلمان جب اس آیت کو پڑھتے ہیں تو وہ مَنْ پر وقفہ (pause) کرتے ہیں۔ یعنی مَنْ کے بعد کسی قدر رک کر راقِ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے والے اصحاب نے بیان کیا کہ آپ نے جب یہ آیت پڑھی تو آپ نے حرف مَنْ پر وقفہ (pause) کیا۔ ورنہ نحو و صرف کے فن (عربی گرائمر) کے اعتبار سے اس کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے کہ یہاں یہ وقفہ کیوں کیا جائے۔ اگر قرآن کے ساتھ اس کے حاملین وہ معاملہ کر سکتے جو دوسری کتابوں کے ساتھ اس کے حاملین نے کیا تو لازماً ایسا ہوتا کہ یہ وقفہ باقی نہ رہتا۔ ایسی حالت میں مسلمان اس کو وَقِیلَ مَنْ رَاقٍ پڑھتے، نہ کہ وَقِیلَ مَنْ (سکتہ) راقِ۔ اسی طرح قرآن میں ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء (65:1)۔ اے نبی، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو۔ یہ جملہ نحو و صرف کے عام قاعدہ کے خلاف ہے۔ اس میں واحد سے خطاب کر کے جمع کی ضمیر لائی گئی ہے۔ عام لکھنے اور بولنے والے کبھی ایسا نہیں کرتے۔ اگر قرآن کا وہ معاملہ ہوتا جو دوسری آسمانی کتابوں کا ہے تو یقینی طور پر ایسا ہوتا کہ کچھ مسلمان اس آیت کے الفاظ کو بدل کر اس طرح لکھ چکے ہوتے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader