عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کتاب در حقیقت اس واقعہ کا علمی اعتراف ہے کہ دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ کسی بھی میکانیکل توجیہ کو قبول نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر پروفیسر جان مینارڈ اسمتھ نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ نظریہ ارتقاء نا قابل حل اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس نظریات ہیں۔ مگر (built-in problems) ہمارے پاس وہ ذرائع نہیں کہ ہم حقیقی واقعات سے اپنے نظریات کی تصدیق کر سکیں۔ قرآن کے مطابق انسان اور دوسری تمام انواع خدا کی تخلیق ہیں۔ اس کے برعکس نظریہ ارتقاء زندگی کی تمام قسموں کو اندھے مادی عمل کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ قرآن کا جواب اپنی توجیہ آپ ہے۔ کیونکہ خدا ایک صاحب ارادہ ہستی ہے۔ وہ اسباب کا محتاج نہیں۔ وہ اپنی مرضی کے تحت کسی بھی واقعہ کو ظہور میں لا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ارتقائی عمل کے لیے ضروری ہے کہ ہر واقعہ کے پیچھے اس کا کوئی سبب پایا جائے۔ چونکہ ایسے اسباب کی دریافت ممکن نہیں اس لیے نظریہ ارتقاء اس دنیا میں بے توجیہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ارتقاء کا نظریہ لازمی منطقی خلاصے سے دوچار ہے۔ جب کہ قرآن کے نظریہ میں کوئی منطقی خلا نہیں پایا جاتا۔ علم سیاست یہی معاملہ فلسفہ سیاسیات کا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بر ٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار کے الفاظ میں سیاسی فلسفہ اور سیاسی اختلافات بنیادی طور پر ایک ہی سوال کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ کہ کس کو کس کے اوپر اقتدار حاصل ہو : Political philosophy and political conflict have revolved basically around who should have power over whom. (Encyclopedia Britannica vol. 14, p. 697)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader