کتاب محفوظ
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
پریس کے دور میں یہ ممکن ہو گیا کہ کسی کتاب کا ایک نسخہ لکھا جائے اور اس کو چھاپ کر ایک ہی قسم کے کروڑوں نسخے تیار کر لیے جائیں۔ مگر پہلے ایسا ممکن نہ تھا۔ قدیم زمانے میں کتاب کا ہر نسخہ الگ الگ ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے اکثر ایک نسخہ اور دوسرے نسخے میں کچھ نہ کچھ فرق ہو جاتا تھا۔ چنانچہ قدیم کتابوں میں سے جو کتاب بھی آج دنیا میں پائی جاتی ہے اس کے مختلف قلمی نسخوں میں سے کوئی بھی دو نسخہ ایسا نہیں جو فرق سے خالی ہو۔ یہ صرف قرآن ہے جس کے لاکھوں نسخے قدیم زمانے میں ہاتھ سے لکھ کر تیار کیے گئے۔ ان کی ایک بڑی تعداد آج بھی میوزیم اور کتب خانوں میں موجود ہے۔ مگر ایک قلمی نسخے اور دوسرے قلمی نسخے میں کوئی ادنیٰ فرق نہیں پایا جاتا۔ یہ خدا کی خصوصی مدد تھی جس نے قرآن کے بارے میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ مستعد اور حساس بنا دیا۔ اسی کے ساتھ خدا نے یہ انتظام کیا کہ قرآن کے حفظ (رٹ کر اس کے متن کو یاد کرنے) کا نادر طریقہ شروع ہوا جو اس سے پہلے معلوم تاریخ میں کبھی کسی کتاب کے لیے نہیں کیا گیا تھا۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے دل میں یہ جذبہ ابھر آیا کہ وہ قرآن کے متن کو شروع سے آخر تک یاد کریں اور یاد رکھیں۔ اس طرح کے افراد تاریخ کے ہر دور میں ہزاروں کی تعداد میں پیدا ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ قرآن کے زمانے سے شروع ہو کر آج تک جاری ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق دنیا میں کوئی بھی دوسری کتاب نہیں ہے جس کے ماننے والوں نے اس طرح اس کو یاد کرنے کا اہتمام کیا ہو جس طرح قرآن کے ماننے والے ہر دور میں کرتے رہے ہیں۔ قرآن کو یاد کرنے کے رواج نے اس کی حفاظت کے اس انوکھے انتظام کو ممکن بنا دیا، جس کو ایک فرانسیسی مستشرق نے دہرا جانچ (double

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader