علم سیاست
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میدانِ فکر میں پچھلے پانچ ہزار سال سے اعلیٰ ترین انسانی دماغ اپنی کوششیں صرف کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود علم سیاسیات کا مربوط نظام بنانے کے لیے وہ چیز دریافت نہ ہو سکی جس کو اسپینوزا نے علمی بنیاد (Scientific base) کہا ہے۔ علم سیاسیات میں ایک درجن سے زیادہ مدارس فکر پائے جاتے ہیں۔ تا ہم وسیع تقسیم میں وہ صرف دو ہیں۔ ایک وہ جو شخصی اقتدار کی وکالت کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو جمہوری اقتدار کے حامی ہیں۔ ان دونوں ہی پر سخت ترین اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ شخصی اقتدار کے نظریہ پر یہ اعتراض واقع ہوتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے اوپر کیوں حاکمانہ اقتدار حاصل ہو۔ چنانچہ وہ کبھی قبولیت عام حاصل نہ کر سکا۔ دوسرا نظریہ وہ ہے جس کو جمہوری اقتدار کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ عملاً اگرچہ یہ ایک مقبول نظریہ ہے مگر نظری اور فکری اعتبار سے اس پر سخت ترین شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ جمہوریت (ڈیموکریسی) کا نظریہ اس عقیدہ پر قائم ہے کہ تمام انسان آزاد ہیں اور برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ روسو (Jean Jacques Rousseau, 1712-1778) کی کتاب معاہدہ عمرانی (Social Contract) کا پہلا فقرہ یہ ہے: Man is born free; and everywhere he is in chain. انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ ڈیموکریسی ایک یونانی لفظ ہے۔ اس کے معنی ہیں حکومت بذریعہ عوام (Rule by the people)۔ مگر عملاً یہ ناممکن ہے کہ تمام عوام کی حکومت قائم ہو سکے۔ سارے لوگوں پر سارے لوگ آخر کس طرح حکومت کریں گے۔ مزید یہ کہ انسان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader