Urdu book · عظمتِ قرآن

منصوبہ خداوندی

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

بالکل غیر آباد علاقہ میں بسادیا ہے۔ جہاں مشرکانہ تہذیبوں کے اثرات ابھی تک نہیں پہنچے ہیں۔ ایسامیں نے اس لیے کیا ہے تا کہ وہاں ایک ایسی نسل پیدا ہو جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پائے اور حقیقی معنوں میں توحید کی پرستار بن سکے۔ کسی تہذیبی تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پانا کیا معنی رکھتا ہے۔ اس کی وضاحت ایک جزئی مثال سے ہوتی ہے، راقم الحروف ایک ایسے علاقے میں رہنے والا ہے جس کی زبان اردو ہے۔ میرے باپ اردو بولتے تھے۔ میں بھی اردو بولتا ہوں اور میرے بچوں کی زبان بھی اردو ہے۔ اب یہ ہوا کہ میرے ایک لڑکے نے لندن میں ایک ایسے علاقے میں رہائش اختیار کرلی جہاں صرف انگریزی بولنے والے لوگ رہتے ہیں اور ہر طرف انگریزی زبان کا ماحول ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے اس لڑکے کے بچے اب صرف انگریزی زبان جانتے ہیں۔ وہ اردو میں اظہار خیال کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ میں لندن گیا تو اپنے ان پوتوں سے مجھے انگریزی زبان میں بات کرنی پڑی۔ میرے ان پوتوں کا یہ حال اس لیے ہوا کہ اردو کے تسلسل سے منقطع ہو کر ان کی پرورش ہوئی۔ اگر وہ میرے ساتھ دہلی میں ہوتے تو ان بچوں کا یہ معاملہ کبھی نہ ہوتا۔ ذبح اسماعیل کے واقعے کی حقیقت بھی یہی ہے۔ حضرت ابراہیم کو جو خواب (الصافات، 37: 102) دکھایا گیا، وہ ایک تمثیلی خواب تھا۔ اگرچہ حضرت ابراہیم اپنی انتہائی وفاداری کی بنا پر اس کی حقیقی تعمیل کے لیے آمادہ ہو گئے۔ قدیم مکہ میں نہ پانی تھا، نہ سبزہ اور نہ زندگی کا کوئی سامان۔ ایسی حالت میں اپنی اولاد کو وہاں بسانا یقیناً ان کو ذبح کرنے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کو جیتے جی موت کے حوالے کر دیا جائے۔ شرک کے تسلسل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page