Urdu book · عظمتِ قرآن

منصوبہ خداوندی

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

سے منقطع کر کے نئی نسل پیدا کرنے کا منصوبہ کسی ایسے مقام پر ہی زیرِ عمل لایا جا سکتا تھا۔ جہاں اسبابِ حیات نہ ہوں اور اس بنا پر وہ انسانی آبادی سے خالی ہو۔ حضرت ابراہیم کے خواب کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو معاشی اور سماجی حیثیت سے ذبح کر کے مذکورہ نسل تیار کرنے میں خدائی منصوبے کا ساتھ دیں۔ یہ منصوبہ چونکہ اسباب کے دائرہ میں زیرِ عمل لانا تھا اس لیے اس کی باقاعدہ نگرانی بھی ہوتی رہی۔ حضرت ابراہیم خود فلسطین میں مقیم تھے۔ مگر وہ کبھی کبھی اس کی جانچ کے لیے مکہ جاتے رہتے تھے۔ ابتدا ًاس مقام پر صرف ہاجرہ اور اسماعیل تھے۔ بعد کو جب وہاں زمزم کا پانی نکل آیا تو قبیلہ جرہم کے کچھ خانہ بدوش افراد یہاں آکر آباد ہو گئے۔ حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انھوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے نکاح کر لیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ایک بار فلسطین سے چل کر مکہ پہنچے تو اس وقت حضرت اسماعیل گھر پر موجود نہ تھے۔ حضرت ابراہیم نے ان کی بیوی سے حال دریافت کیا۔ بیوی نے کہا کہ ہم بہت برے حال میں ہیں، اور زندگی مصیبتوں میں گزر رہی ہے۔ حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس ہو گئے کہ جب اسماعیل آئیں تو ان کو میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ بدل دو (غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ)۔ حضرت اسماعیل جب لوٹے اور بیوی سے یہ روداد سنی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ میرے والد تھے اور ان کا پیغام تمثیل کی زبان میں یہ ہے کہ میں موجودہ عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے رشتہ کرلوں۔ چنانچہ انھوں نے اس کو طلاق دے دی اور قبیلہ کی دوسری عورت سے شادی کرلی۔ حضرت ابراہیم کی نظر میں وہ عورت اس قابل نہ تھی کہ وہ زیرِ تیاری نسل کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page