منصوبہ خداوندی
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
ماں بن سکے) (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3185)۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ مکہ آئے۔ اب بھی حضرت اسماعیل گھر پر نہ تھے۔ البتہ ان کی دوسری بیوی وہاں موجود تھیں۔ اس سے حال پوچھا تو اس نے قناعت اور شکر کی باتیں کیں اور کہا کہ ہم بہت اچھے حال میں ہیں۔ حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس ہو گئے کہ جب اسماعیل آئیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ پیغام دے دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ باقی رکھو (ثَبِّتْ عَتَبَةَ بَابِك)۔ حضرت اسماعیل جب واپس آئے اور روداد سنی تو سمجھ گئے کہ یہ میرے والد تھے، اور ان کے پیغام کا مطلب یہ ہے کہ اس عورت کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ پیش نظر منصوبے سے مطابقت کر کے رہ سکے، اور پھر اس سے وہ نسل تیار ہو جس کا یہاں تیار کرنا اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3185)۔ اس طرح صحرائے عرب کے الگ تھلگ ماحول میں ایک نسل بننا شروع ہوئی۔ اس نسل کی خصوصیات کیا تھیں، اس کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نسل بیک وقت دو خصوصیات کی حامل تھی، ایک الفطرۃ اور دوسرے المروۃ۔ صحرائے عرب کے ماحول میں فطرت کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی جو انسان کو متاثر کرے ۔ کھلے بیابان، اونچے پہاڑ، رات کے وقت وسیع آسمان میں جگمگاتے ہوئے تارے، وغیرہ۔ اس قسم کے قدرتی مناظر چاروں طرف سے انسان کو توحید کا سبق دے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اس کو خدا کی عظمت اور کاریگری کی یاد دلاتے تھے۔ اسی خالص ربانی ماحول میں پرورش پا کر وہ قوم تیار ہوئی جو حضرت ابراہیم کے الفاظ میں اس بات کی صلاحیت رکھتی تھی کہ وہ حقیقی معنوں میں امت مسلمہ (البقرہ، 2:128) بن سکے۔ یعنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader