Urdu book · عظمتِ قرآن

منصوبہ خداوندی

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سپرد کر دینے والی قوم۔ یہ ایک ایسی قوم تھی جس کی فطرت اپنی ابتدائی حالت میں محفوظ تھی ، اسی لیے وہ دین فطرت کو قبول کرنے کی پوری استعداد رکھتی تھی۔ اسی کے ساتھ دوسری چیز جس کو پیدا کرنے کے لیے یہ ماحول خصوصی طور پر موزوں تھا وہ وہی ہے جس کو عربی زبان میں المُرُوَّة (مردانگی) کہتے ہیں۔ قدیم حجاز کے سنگلاخ ماحول میں زندگی نہایت مشکل تھی۔ وہاں خارجی اسباب سے زیادہ انسانی اوصاف کار آمد ہو سکتے تھے۔ وہاں بیرونی ماحول میں وہ چیزیں موجود نہ تھیں جن پر انسان بھروسہ کرتا ہے۔ وہاں انسان کے پاس ایک ہی چیز تھی، اور وہ اس کا اپنا وجود تھا۔ ایسے ماحول میں قدرتی طور پر ایسا ہونا تھا کہ انسان کے اندرونی اوصاف زیادہ سے زیادہ اجاگر ہوں۔ اس طرح دو ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں وہ قوم بن کر تیار ہوئی جس کے اندر حیرت انگیز طور پر اعلیٰ مردانہ اوصاف تھے۔ پروفیسر فلپ ہٹی کے الفاظ میں پورا عرب ہیرؤوں کی ایک ایسی نرسری (nursery of heroes) میں تبدیل ہو گیا جس کی مثال نہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی پائی گئی اور نہ اس کے بعد۔ History of the Arabs by Philip K. Hitti, Macmillan, 1989 p. 142 چھٹی صدی عیسوی میں وہ وقت آ گیا تھا کہ تاریخ میں شرک کے تسلسل کو توڑنے کا منصوبہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ چنانچہ بنواسماعیل کے اندر پیغمبر آخرالزماں (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا کر دیے گئے، جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page