منصوبہ خداوندی
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (61:9)۔ وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ پیغمبر آخرالزمان کا خاص مشن یہ تھا کہ دین شرک کو غلبہ کے مقام سے ہٹا دیں اور دین توحید کو غالب دین کی حیثیت سے دنیا میں قائم کر دیں۔ اس غلبے سے مراد اصلاً فکری اور نظریاتی غلبہ ہے۔ یعنی تقریباً اسی قسم کا غلبہ جیسا کہ موجودہ زمانے میں سائنسی علوم کو روایتی علوم کے اوپر حاصل ہوا ہے۔ یہ غلبہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اس کا کچھ اندازہ اس مثال سے ہو سکتا ہے کہ قدیم روایتی علوم کو اگر جدید سائنسی علوم پر غالب کرنے کی مہم چلائی جائے تو وہ کس قدر دشوار ہوگی۔ اسی طرح ساتویں صدی عیسوی میں یہ بے حد مشکل کام تھا کہ مشرکانہ تہذیب کو مغلوب کیا جائے اور اس کی جگہ توحید کو غالب فکر کا مقام عطا کیا جائے۔ کسی نظام کے فکری غلبے کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کو اس کی تمام جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنا۔ اس قسم کا کام ہمیشہ بے حد مشکل کام ہوتا ہے جو نہایت گہری منصوبہ بندی اور زبردست جدوجہد کے بعد ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو دو خاص امدادی چیزیں فراہم کی گئیں۔ ایک وہ جس کا ذکر كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (3:110) میں ہے ۔ یعنی تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ دو ہزار سال کے عمل کے نتیجہ میں ایک ایسا گروہ تیار کیا گیا جو وقت کا بہترین گروہ تھا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader