Urdu book · عظمتِ قرآن

منصوبہ خداوندی

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک طرف وہ اپنی تخلیقی فطرت پر قائم تھا۔ دوسری طرف وہ چیز اس کے اندر کمال درجہ میں موجود تھی جس کو اخلاقی کردار یا مردانہ اوصاف کہا جاتا ہے۔ اسی گروہ کے بہترین منتخب افراد، قبولِ اسلام کے بعد وہ لوگ بنے جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ دوسری خصوصی مدد وہ تھی جس کی طرف سورہ الروم کی ابتدائی آیات میں اشارہ ملتا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا میں دو بڑی مشرکانہ سلطنتیں تھیں۔ ایک رومی (بازطینی) سلطنت، دوسرے ایرانی (ساسانی) سلطنت۔ اس وقت کی آباد دنیا کا اکثر حصہ، براہِ راست یا بالواسطہ طورپر، انھیں دونوں سلطنتوں کے زیرِ قبضہ تھا۔ توحید کو وسیع تر دنیا میں غالب کرنے کے لیے ان دونوں مشرک سلطنتوں سے سابقہ پیش آنا لازمی تھا۔ خدا نے یہ کیا کہ عین اسی زمانے میں دونوں سلطنتوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا دیا۔ ان کی یہ لڑائی نسلوں تک جاری رہی۔ ایک بار ایرانی اٹھے اور رومیوں کی طاقت کو تہس نہس کر کے ان کی مملکت کے بڑے حصے پر قابض ہو گئے۔ دوسری بار رومی اٹھے اور انھوں نے ایرانیوں کی طاقت کو بالکل توڑ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ بنو اسماعیل (اصحابِ رسول) جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت منظم ہو کر اٹھے تو انھوں نے بے حد کم عرصے میں ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے کو فتح کر ڈالا اور ہر طرف شرک کو مغلوب اور توحید کو غالب کر دیا۔ اس سلسلے میں یہاں پروفیسر ہٹی کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے: The enfeebled condition of the rival Byzantines and Sasanids who had conducted internecine against each other for many generations the heavy taxes, consequent upon these wars, imposed on the citizens of both empires and

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page