Urdu book · عظمتِ قرآن

منصوبہ خداوندی

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

برائیوں کی جڑ ہے اور توحید تمام خوبیوں کا سر چشمہ ہے۔ اس لیے جب یہ بنیادی واقعہ ہوا تو اسی کے ساتھ انسان کے اوپر تمام خوبیوں کا دروازہ بھی کھل گیا جو شرک کے غلبے کے سبب سے اب تک اس کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ اب توہماتی دور ختم ہو کر علمی دور کا آغاز ہوا۔ انسانی امتیاز کی بنیاد ڈھ گئی اور اس کے بجائے انسانی مساوات کا زمانہ شروع ہوا۔ نسلی حکمرانی کی جگہ جمہوری حکمرانی کی بنیادیں پڑیں۔ مظاہر فطرت جو تمام دنیا میں پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے، پہلی بار تحقیق اور تسخیر کا موضوع قرار پائے، اور اس طرح حقائق فطرت کے کھلنے کا آغاز ہوا۔ یہ دراصل توحید ہی کا انقلاب تھا جس سے ان تمام انقلابات کی بنیاد پڑی جو بالاخر اس مشہور واقعہ کو پیدا کرنے کا سبب بنے جس کو جدید ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے دعا فرمائی تھی: وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ - رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ (14:35-36)۔ خداایا مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ خداایا، ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ بتوں نے کس طرح لوگوں کو گمراہ کیا۔ بتوں (اصنام) میں وہ کون سی خصوصیت تھی، جس کی بنا پر وہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کا راز اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب یہ دیکھا جائے کہ حضرت ابراہیم کے زمانے میں وہ کون سے بت تھے جن کی بابت آپ نے یہ الفاظ فرمائے۔ یہ بت، سورج، چاند اور ستارے تھے۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page