منصوبہ خداوندی
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
کے زمانے میں جو مہذب دنیا تھی اس میں ہر جگہ آسمان کے ان روشن اجرام کی پرستش ہوتی تھی جن کو سورج، چاند اور ستارے کہا جاتا ہے۔ اسی سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ بت کیوں کر لوگوں کو گمراہ کر پاتے تھے۔ خدا اگرچہ سب سے بڑی حقیقت ہے مگر وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے برعکس، سورج، چاند اور ستارے ہر آنکھ کو جگمگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی جگمگاہٹ کی بنا پر لوگ ان کے فریب میں آگئے اور ان سے متاثر ہو کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ ان روشن اجسام کا غلبہ انسان کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوا کہ وہی پوری انسانی فکر پر چھا گیا۔ حتیٰ کہ حکومتیں بھی انھیں کی بنیاد پر قائم ہونے لگیں۔ اس زمانے کے بادشاہ اپنے آپ کو سورج کی اولاد اور چاند کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرنے لگے۔ پیغمبر آخرالزماں کے ذریعے توحید کو غالب کر کے اس دور کو ختم کیا گیا۔ اس وقت غلبہ توحید کا جو منصوبہ بنایا گیا اس کے دو خاص مرحلے تھے۔ پہلا مرحلہ وہ تھا جس کو قرآن میں وَقَاتِلُوْهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهُ لِلّٰهِ (8:39) کہا گیا ہے۔ یعنی، ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ اس آیت میں "فتنہ" سے مراد شرک جارح ہے۔ قدیم زمانے میں شرک کو جارحیت کا موقع اس لیے حاصل تھا کہ اس زمانے میں حکومت کی بنیاد شرک پر قائم ہو گئی تھی۔ شرک کو مکمل طور پر حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسی حالت میں جب توحید کی دعوت دی جاتی تو وقت کے حکمرانوں کو یہ محسوس ہونے لگتا کہ یہ دعوت ان کے حقِ حکمرانی کو مشتبہ کر رہی ہے۔ چنانچہ وہ توحید کے داعیوں کو کچلنے کے لیے کھڑے ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader