منصوبہ خداوندی
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتے۔ قدیم زمانے میں اعتقادی جارحیت کا اصل سبب یہی تھا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو یہ حکم ہوا کہ علم برداران شرک سے لڑو اور شرک کی اس حیثیت کا خاتمہ کر دو کہ وہ داعیان توحید کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا سکیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ تھا کہ شرک کا رشتہ سیاست سے کاٹ دیا جائے۔ شرک اور سیاست دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے یہ مہم پوری طاقت کے ساتھ شروع کی۔ ان کی کوششوں سے پہلے عرب میں شرک کا زور ٹوٹا۔ اس کے بعد قدیم آباد دنیا کے بیشتر علاقے میں مشرکانہ نظام کو مغلوب کر کے ہمیشہ کے لیے شرک کی جارحانہ حیثیت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اب ہمیشہ کے لیے شرک الگ ہو گیا اور سیاسی اقتدار الگ۔ شرک کے اوپر توحید کے غلبہ کی مہم کا دوسرا مرحلہ وہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ پہلے مرحلہ کا مطلب مظاہر فطرت سے سیاسی نظریہ اخذ کرنے کو ختم کرنا تھا۔ وہ ساتویں صدی عیسوی میں پوری طرح انجام پا گیا۔ دوسرے مرحلہ کا مطلب یہ تھا کہ مظاہر فطرت سے توہمات کے پردہ کو ہٹا دیا جائے اور اس کو علم کی روشنی میں لایا جائے۔ اس دوسرے مرحلہ کا آغاز دور نبوت سے ہوا اور اس کے بعد وہ موجودہ سائنسی انقلاب کی صورت میں تکمیل کو پہنچا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader