علم سیاست
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سماجی حیوان (social animal) ہے۔ انسان اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے کہ وہ جس طرح چاہے رہے۔ بلکہ وہ سماجی مجموعہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ ایک مفکر کے الفاظ میں، انسان آزاد نہیں پیدا ہوا ہے۔ انسان ایک سماج کے اندر پیدا ہوتا ہے جو کہ اس کے اوپر پابندیاں عائد کرتا ہے: Man is not born free; Man is born into society, which imposes restraints on him. جب سارے عوام بیک وقت حکومت نہیں کر سکتے تو عوامی حکومت کا نظام کس طرح بنایا جائے۔ اس سلسلے میں مختلف نظریے پیش کیے گئے۔ سب سے زیادہ مقبول نظریہ روسو کا نظریہ ہے جس کو اس نے رائے عامہ (general will) کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ یہ رائے عامہ حکمران افراد کے انتخاب میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح عوام کی حکومت عملًا منتخب افراد کی حکومت بن جاتی ہے۔ عوام کو انتخاب میں ووٹ دینے کی کسی قدر آزادی ہوتی ہے۔ مگر ووٹ دینے کے بعد وہ دوبارہ اپنے جیسے کچھ افراد کے محکوم بن جاتے ہیں۔ روسو نے اس کا جواب یہ دیا کہ ایک شخص کی خواہش کی پیروی غلامی ہے۔ مگر خود اپنے مقرر کردہ قانون کی پیروی کرنا آزادی ہے: To follow one's impulse is slavery but to obey the self-prescribed law is liberty. (Encyclopedia Britannica, 15/1172) ظاہر ہے کہ یہ جواب ناکافی تھا۔ چنانچہ اس نظریہ کو دوبارہ سخت اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیوں کہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ خوبصورت الفاظ کے باوجود منتخب جمہوریت عملًا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader