منصوبہ خداوندی
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا خدا کی صفات کا ایک اظہار ہے۔ یہاں مخلوقات کے آئینے میں آدمی اس کے خالق کو پاتا ہے۔ وہ اس پر غور کر کے خدا کی قدرت اور عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مگر قدیم مشرکانہ افکار نے دنیا کی چیزوں کو پر اسرار طور پر مقدس بنا رکھا تھا۔ ہر چیز کے بارے میں کچھ توہماتی عقائد بن گئے تھے اور یہ عقائد ان چیزوں کی تحقیق و جستجو میں مانع تھے۔ توحید کے انقلاب کے بعد جب تمام دنیا خدا کی مخلوق قرار پائی تو اس کے بارے میں تقدس کا ذہن ختم ہو گیا۔ اب دنیا کی ہر چیز کا بے لاگ مطالعہ کیا جانے لگا اور اس کی تحقیق شروع ہو گئی۔ اس تحقیق اور مطالعہ کے نتیجے میں چیزوں کی حقیقتیں کھلنے لگیں۔ دنیا کے اندر قدرت کا جو مخفی نظام کار فرما ہے وہ انسان کے سامنے آنے لگا۔ یہاں تک کہ جدید سائنسی انقلاب کی صورت میں وہ پیشنگوئی کامل صورت میں پوری ہو گئی جس کا ذکر اوپر کی آیت (حم السجدہ 41:53) میں ہے۔ جدید سائنسی مطالعہ نے کائنات کے جو حقائق انسان پر کھولے ہیں انہوں نے ہمیشہ کے لیے توہماتی دور کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ان دریافت شدہ حقائق سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ دینی عقائد اب محض مدعیانہ عقائد نہیں رہے بلکہ خود علم انسانی کے ذریعہ ان کا بر حق ہونا ایک ثابت شدہ چیز بن گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ معلومات ایک مومن کے لیے اضافہ ایمان کا بے پناہ خزانہ ہیں۔ ان سائنسی دریافتوں کے ذریعہ کائنات کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ اگرچہ بہت جزئی ہے، تاہم وہ اتنا زیادہ حیرت ناک ہے کہ اس کو پڑھ کر اور جان کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوں ۔ اس کا ذہن معرفت رب کی روشنی حاصل کرے۔ اس کی آنکھیں خدا کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader