Urdu book · عظمتِ قرآن

دورِ جدید میں احیاء اسلام

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کی مہم کے لیے اٹھیں۔ ایسے افراد تیار کرنے کے لیے موجودہ زمانے میں دوبارہ اسی قسم کا ایک منصوبہ درکار ہے جو دور اول میں خیر امت کے اخراج (آل عمران، 3:110) کے لیے زیر عمل لایا گیا تھا۔ موجودہ زمانے کے اعتبار سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج یہ ضرورت ہے کہ جدید طرز کی ایک اعلیٰ تربیت گاہ قائم کی جائے۔ یہ تربیت گاہ تمدنی ماحول سے الگ قدرت کی بے آمیز فضا میں قائم ہونی چاہیے۔ یہ تربیت گاہ گو یا دوبار قوم کے کچھ اعلیٰ افراد کو وادی غیر ذی زرع میں بسانے کے ہم معنی ہوگی۔ مذکورہ تربیت گاہ کو کامیاب طور پر چلانے کے لیے کچھ ایسے ابراہیمی والدین درکار ہیں جو اپنی اولاد کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ اس پر راضی ہو جائیں کہ ان کی ذہین اولاد کو وقت کے اعلیٰ معاشی مواقع سے محروم کر کے ایک ایسے ماحول میں ڈال دیا جائے جہاں سب کچھ دے کر بھی تعلق باللہ اور فکر آخرت کے سوا کوئی اور چیز نہ ملتی ہو۔ اس طرح کی ایک تربیت گاہ، فلپ ہٹی کے مذکورہ الفاظ میں ، دوبارہ ایک قسم کی "نرسری آف ہیروز" بنانے کے ہم معنی ہوگی۔ جب تک اس قسم کے افراد کی ایک قابل لحاظ ٹیم تیار نہ ہو جائے، احیاء اسلام کی جانب کوئی حقیقی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس قسم کی تربیت گاہ کا قیام گویا جدید زمانہ کے لحاظ سے اس آیت قرآنی کی تعمیل ہوگی : فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (9:122)۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page