دورِ جدید میں احیاء اسلام
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تا کہ وہ بھی پر ہیز کرنے والے بنتے۔ یعنی قوم کے کچھ ذہین افراد کو عام ماحول سے الگ کر کے ایک علیحدہ ماحول میں لایا جائے اور وہاں متعین مدت تک خصوصی تعلیم و تربیت کے ذریعہ انھیں اس کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کی مہم کو کامیابی کے ساتھ چلا سکیں۔ وہ اہل عالم کے لیے منذر اور مبشر بن سکیں۔ دور اول میں اسلامی انقلاب کو ممکن بنانے کے لیے اللہ تعالی نے ایک خاص اہتمام یہ کیا کہ ایران اور روم کی سلطنتیں جو اس زمانہ میں دین توحید کی سب سے بڑی حریف تھیں، ان کو باہم ٹکرا کر اتنا کمزور کر دیا کہ اہل اسلام کے لیے ان کو مغلوب کرنا آسان ہو گیا۔ خدا کی یہی مدد موجودہ زمانہ کے اہل ایمان کے لیے ایک اور شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ اور وہ ہے کائنات کے بارے میں ایسی معلومات کا سامنے آنا جو دینی حقیقتوں کو معجزاتی سطح پر ثابت کر رہی ہیں۔ قدیم زمانے میں توہماتی طرزِ فکر کا غلبہ تھا، اس بنا پر عالم کائنات کے بارے میں انسان نے عجیب عجیب بے بنیاد رائیں قائم کر رکھی تھیں۔ کائنات کو قرآن میں آلاء رب (کرشمۂ خدا) کہا گیا ہے (55:30)۔ مگر یہ خدائی کرشمہ توہماتی مفروضوں کے پردہ میں چھپا ہوا تھا۔ دور اول کے اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ مظاہر فطرت جو اس سے پہلے پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے وہ انسان کے لیے تحقیق و تسخیر کا موضوع بن گئے۔ اس طرح تاریخ انسانی میں پہلی بار واقعاتِ فطرت کا خالص علمی انداز میں جاننے کاذہن پیدا ہوا۔ یہ ذہن مسلسل بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ یورپ پہنچا۔ یہاں ترقی پا کر وہ اس انقلاب کا سبب بنا جس کو موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader