Urdu book · عظمتِ قرآن

دورِ جدید میں احیاء اسلام

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس نے گویا توہماتی پردے کو ہٹا کر کرشمہ خدا کا کرشمہ خدا ہونا ثابت کر دیا۔ اس نے مظاہر فطرت کو "معبود" کے مقام سے ہٹا کر "مخلوق" کے مقام پر رکھ دیا۔ حتیٰ کہ یہ نوبت آئی کہ چاند جس کو قدیم انسان معبود سمجھ کر پوجتا تھا، اس پر اس نے اپنے پاؤں رکھ دیے اور وہاں اپنی مشینیں اتار دیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس نے جو نئے دلائل فراہم کیے ہیں، ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو دین توحید کی دعوت کو اس برتر سطح پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے اس سے پہلے معجزات ظاہر کیے جاتے تھے۔ زمین و آسمان میں جو چیزیں ہیں وہ اس لیے ہیں کہ ان کو دیکھ کر آدمی خدا کو یاد کرے ۔ مگر انسان نے خود انھیں چیزوں کو خدا سمجھ لیا۔ یہ ایک قسم کا انحراف تھا۔ اسی قسم کا انحراف موجودہ زمانے میں سائنسی معلومات کے بارے میں پیش آرہا ہے۔ سائنسی تحقیق سے جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ سب خدا کی خدائی کا ثبوت ہیں۔ وہ انسان کو خدا کی یاد دلانے والے ہیں۔ مگر موجودہ زمانے کے ملحد مفکرین نے دوبارہ ایک انحراف کیا۔ انھوں نے سائنسی حقیقتوں کو غلط رخ دے کر یہ کیا کہ جس چیز سے خدا کا ثبوت نکل رہا تھا اس کو انھوں نے اس بات کا ثبوت بنا دیا کہ یہاں کوئی خدا نہیں ہے۔ بلکہ سارا نظام ایک مشینی عمل کے تحت اپنے آپ چلا جارہا ہے۔ سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے وہ ایک حد درجہ با معنی اور با مقصد کائنات ہے۔ جدید دریافتوں نے ثابت کیا ہے کہ ہماری دنیا منتشر مادہ کا بے معنی انبار نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجہ کا منظم کار خانہ ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں بے حد ہم آہنگی کے ساتھ ایک ایسے رخ پر سفر کرتی ہیں جو ہمیشہ با مقصد نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔ کائنات میں نظم اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page