علم سیاست
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
منتخب بادشاہت (elective monarchy) کا دوسرا نام ہے۔ انتخاب کے بعد جمہوری افراد وہی کچھ بن جاتے ہیں جو اس سے پہلے شاہی افراد بنے ہوئے تھے۔ اس طرح تمام سیاسی مفکرین فکری تضاد کا شکار ہیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ انھیں نظر نہیں آتا۔ اعتقادی طور پر سب کے سب مساواتِ انسانی کو اعلیٰ ترین قدر مانتے ہیں۔ مگر انسانی مساوات حقیقی معنوں میں نہ شاہی نظام میں حاصل ہوتی اور نہ جمہوری نظام میں۔ شاہی نظام اگر خاندانی بادشاہت ہے تو جمہوری نظام انتخابی بادشاہت۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں شاہی نظام کے خلاف زبردست بغاوت ہوئی۔ مگر جب شاہی افراد کی محکومی ختم ہو گئی تو لو گوں کو معلوم ہوا کہ ان کے لیے دوسرا بدل صرف یہ ہے کہ نمائندہ افراد کی محکومی پر اپنے آپ کو راضی کر لیں۔ دونوں نظاموں میں جو فرق تھا وہ صرف یہ کہ نئے حکمران اپنے آپ کو زمین پر عوام کا نمائندہ کہتے تھے۔ جب کہ پرانے حکمرانوں کا کہنا تھا کہ وہ زمین پر خدا کے نمائندہ (representative of God on earth) ہیں۔ برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اس معاملے میں انسان کی ناکامی کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ سیاسی فلسفہ کی تاریخ ، افلاطون سے لے کر اب تک ، ظاہر کرتی ہے کہ جدید سیاسی فلسفہ ابھی تک بنیادی مسائل سے دوچار ہے: The history of political philosophy from Plato until the present day makes plain that modern political philosophy is still faced with the basic problems. (Encyclopedia Britannica, 14/695) جمہوریت عین مساواتِ انسانی ہی کے نام پر پیش کی گئی۔ مگر وہ اپنے اندرونی تضاد کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader