کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کی گواہی سورہ الانعام میں منکرین کے اس مطالبہ کا ذکر ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے اس وعدے میں سچے ہو کہ جو پیغام تم لائے ہو وہ خدا کی طرف سے ہے تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔ فرمایا کہ ایمان کا مدار معجز نما واقعات پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ آدمی کی آنکھ کھلی ہوئی ہو اور وہ نشانیوں سے سبق لینا جانتا ہو۔ جس میں یہ صلاحیت زندہ ہو، اس کو نظر آئے گا کہ یہاں وہ معجزہ پہلے سے نہایت وسیع پیمانہ پر موجود ہے جس کا وہ مطالبہ کر رہا ہے۔ آخر اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ساری کائنات اپنے تمام اجزاء سمیت اس پیغام کی سچائی کی تصدیق کر رہی ہے جس کی طرف خدا کا رسول بلا رہا ہے۔ اور اگر آدمی نے اپنے آپ کو اندھا بنارکھاہو، وہ واقعات سے سبق لینے کی کوشش نہ کرتا ہو تو بڑے سے بڑا معجزہ بھی کار آمد نہیں ہو سکتا (40-6:35)۔ اس سلسلے میں ان دیگر مخلوقات (چڑیوں اور جانوروں) کی مثال دی گئی ہے جو اس دنیا میں انسان کے سوا پائی جاتی ہیں۔ دوسری جگہ زمین و آسمان کو بھی اس مثال میں شامل کیا گیا ہے (بنی اسرائیل، 17:44)۔ یعنی اگر تم غور کرو تو تمہارے لیے کافی سامان عبرت و نصیحت کا ان کے اندر موجود ہے۔ کیوں کہ یہ سب بھی تمہاری طرح مخلوقات ہیں۔ ان کو بھی اپنی زندگی میں ایک ڈھنگ اختیار کرنا ہے جس طرح تم کو اختیار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ مگر تمہارے مقابلے میں، عالم موجودات کا بے حد بڑا حصہ ہونے کے باوجود ،ان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader