Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کی گواہی

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ مکمل طور پر تم سے مختلف ہے۔ وہ ایک ہی مقررہ نقشہ پر کروڑوں برس سے چل رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے مقررہ نقشہ سے ادنیٰ انحراف نہیں کرتا۔ یہ صرف انسان ہے جو ایک مقررہ نقشہ کو قبول نہیں کرتا۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنی من مانی راہوں پر دوڑتا رہے۔ رسول کا مطالبہ تم سے کیا ہے۔ یہی تو ہے کہ اس دنیا کا ایک خالق و مالک ہے۔ تمہارے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ تم خود سری اور خود رائی کو چھوڑ دو اور اپنے خالق و مالک کے تابع ہو جاؤ۔ غور کرو تو اس دعوت کے حق ہونے پر تمام زمین و آسمان اور تمام حیوانات گواہی دے رہے ہیں (النور، 24:41)۔ کیونکہ جس دنیا میں تم ہو جب اس کا وسیع تر حصہ خود سری کے بجائے پابندی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے تو تم اس کا بے حد مختصر حصہ ہو کر اس کے خلاف رویہ اپنانے میں حق بجانب کیسے ہو سکتے ہو۔ عظیم الشان کائنات کا ہر ذرہ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، وہی کر رہا ہے جو اسے کرنا چاہیے ۔ سب اپنے ایک ہی متعین راستہ پر اتنی صحت کے ساتھ چلے جا رہے ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی عزیز و علیم نے ان کو بزور اس کا پابند کر رکھا ہے (یسٰ، 36:38)۔ اتنی بڑی کائنات میں انسان کا الگ راستہ اختیار کرنا بتا رہا ہے کہ انحراف انسان کی طرف ہے، نہ کہ بقیہ کائنات کی طرف (آل عمران، 3:83)۔ ساری کائنات اپنے لاتعداد اجزاء کے ساتھ انتہائی متوافق طور پر (proportionately) حرکت کرتی ہے۔ ان میں کبھی باہم ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ صرف انسان ہے جو آپس میں ٹکراؤ کرتا ہے۔ تمام کائنات اپنی ناقابل قیاس سرگرمیوں کے ساتھ ہمیشہ نفع بخش انجام کی طرف جاتی ہے۔ مگر انسان ایسی کارروائیاں کرتا ہے جو تباہی اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page