علم سیاست
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
وجہ سے ہر عکس نتیجے کا حامل ثابت ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی فلسفہ ہے جو اس دنیا میں فکری تضاد سے خالی ہو سکتا ہے۔ اور وہ قرآن کا فلسفہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن یہ نظریہ پیش کرتا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (49:13)۔ اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔ تمام سیاسی نظریات کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان حاکم اور محکوم کی تقسیم ختم کریں۔ مگر انسانی نظام میں یہ تقسیم کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ خواہ جو بھی سیاسی نظام بنایا جائے۔ یہ صورت ہمیشہ باقی رہے گی کہ کچھ لوگ ایک یادوسرے نام پر حاکم بن جائیں گے اور بقیہ لوگ محکوم کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔ مگر جب خدا کو رب العالمين مان لیا جائے تو یہ تقسیم ایک ریلیٹیو (relative) تقسیم ہو جاتی ہے۔ اب ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف انسان۔ اب رب اور عبد کی تقسیم صرف خدا اور انسان کے درمیان رہتی ہے۔ باقی جہاں تک انسان اور انسان کے درمیان کا معاملہ ہے، سب انسان مساوی طور پر یکساں حیثیت کے مالک ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان حاکم اور محکوم کی تقسیم ختم کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں کہ خدا کو بادشاہ حقیقی مان کر سب انسان اپنے آپ کو اس کی ماتحتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader