اخلاق خداوندِی
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کے بقیہ کائنات ایک اخلاقی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک اچھے انسان کے لیے بھی وہی بات صحیح ہے جو اسپینش رائٹر میگول ڈی سرو نیتش(1547-1616 Miguel de Cervantes) نے ایک اچھے مصوّر کے بارے میں کہی ہے: Good painters imitate nature,bad ones vomit it. اچھے مصوّر فطرت کی نقل کرتے ہیں، برے مصوّر اس کو اگل دیتے ہیں۔ انسان کے سوا جو کائنات ہے اس کو خدا نے ایک قانون کا پابند بنا رکھا ہے۔ وہ لازمی طور پر اس کے مطابق عمل کرتی ہے۔ اس کا ئناتی قانون کو سائنس کی زبان میں قانون فطرت کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اسی بات کو اس طرح کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان خدا کے امر کے تحت ہیں (32:5)۔ اور پھر یہی مطالبہ انسان سے کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے امر کے ماتحت بن کر رہے (آل عمران، 3:154)۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا ایک ہی قانون ہے جس کی پیروی کائنات اور انسان دونوں سے مطلوب ہے۔ بقیہ کائنات بجز اس قانون کو اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور انسان کو خود اپنے ارادہ کے تحت اس قانون کو اختیار کرنا ہے۔ اسلامی اخلاق کا یہ اصول قرآن کی حسب ذیل آیت میں ملتا ہے: کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ اسی کے تابع ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے خوشی سے یا ناخوشی سے۔ اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے (3:83)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader